In tamsaskum hasanatun tasu`hum wa in tusibkum saiyi`atuny yafrahoo bihaa wa in tasbiroo wa tattaqoo laa yad urrukum kaiduhum shai`aa; innal laaha bimaa ya`maloona muheet
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر خيرى به شما رسد اندوهگين شوند و اگر به مصيبتى گرفتار آييد شادمان گردند. اگر شكيبايى ورزيد و پرهيزگارى كنيد از مكرشان به شما زيانى نرسد، كه خدا بر هر كارى كه مىكنند احاطه دارد.
اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَمْسَسْكُمْ: تمہیں پہنچے
حَسَنَةٌ: بھلائی، جیسے فتح، غنیمت یا خوشحالی
تَسُؤْهُمْ: انہیں رنج و غم میں ڈال دیتی ہے
سَیِّئَةٌ: مصیبت، نقصان، شکست یا تنگی
یَفْرَحُوا بِهَا: وہ اس پر خوش ہوتے ہیں
کَیْدُهُمْ: ان کا مکر و فریب
مُحِیطٌ: احاطہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا
تفسیر:
اے ایمان والو! یہ منافقین اور دشمنانِ اسلام کا حال ہے کہ جب تمہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے—خواہ وہ میدانِ جنگ میں فتح ہو، مال و دولت میں اضافہ ہو، یا تمہارے حالات بہتر ہوں—تو انہیں سخت رنج و غم ہوتا ہے اور وہ تمہاری خوشحالی برداشت نہیں کر سکتے۔ اور اس کے برعکس، اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے—جیسے شکست، نقصان، یا تمہارے مال و اولاد میں کمی—تو وہ نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ تم پر شماتت (خوشی منانا) کرتے ہیں۔ یہ ان کی شدید عداوت اور کینہ کی علامت ہے۔
لیکن اے مسلمانو! تمہارے لیے اس کا علاج صبر اور تقویٰ ہے۔ اگر تم ان کی عداوت اور ایذاؤں پر صبر کرو، اور اللہ کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو، تو ان کا کوئی مکر و فریب تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال اور چالوں کو اپنے علم و قدرت کے احاطے میں لے چکا ہے، اور وہ خود ان کے مکر کا توڑ کرے گا اور انہیں ناکام و نامراد لوٹائے گا۔
یہ آیت مومنین کے لیے ایک عظیم بشارت ہے کہ انہیں دشمنوں کے شر سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ وہ صبر اور تقویٰ کو اپنا شیوہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے، اور وہ کبھی اپنے نیک بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہونے دیتا۔
پیارے بھائیو اور بہنو! آج بھی امتِ مسلمہ کو اسی نسخۂ کیمیا کی ضرورت ہے—صبر اور تقویٰ۔ جب ہم ان دو صفات کو اپنا لیں گے، تو اللہ تعالیٰ ہمیں دشمنوں کے مکر سے محفوظ رکھے گا اور ہمیں عزت و سربلندی عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہے، وہ ہمارے دشمنوں کی ہر حرکت سے باخبر ہے، اور وہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
سورہ آل عمران آیت 120 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی…
سورہ آیت 120/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 118–122. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔