Wa laa yahsabannal lazeena yabkhaloon bimaa aataahumul lahu min fadilhee huwa khairal lahum bal huwa sharrul lahum sayutaw waqoona maa bakhiloo bihee Yawmal Qiyaamah; wa lillaahi meeraasus samaawaati wal ard; wallaahu bimaa ta`maloona Khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنان كه در نعمتى كه خدا به آنها عطا كرده است بخل مىورزند، مپندارند كه در بخل ورزيدن برايشان خير است. نه، شر است. در روز قيامت آنچه را كه در بخشيدنش بخل مىورزيدند چون طوقى به گردنشان خواهند آويخت. و از آن خداست ميراث آسمانها و زمين و او به هر كارى كه مىكنيد آگاه است.
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَبْخَلُونَ: کنجوسی کرتے ہیں، بخل کرتے ہیں۔
آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ: اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دیا ہے۔
سَيُطَوَّقُونَ: انہیں طوق پہنایا جائے گا، یعنی ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی میراث (یعنی سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ فرما رہے ہیں جو اپنے مال میں بخل کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے فضل و رزق سے دوسروں کا حق ادا نہیں کرتے۔ ایسے لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ بخل ان کے لیے خیر اور بھلائی کا باعث ہے۔ ہرگز نہیں! بلکہ یہ بخل ان کے لیے شر اور نقصان کا سبب ہے۔ کیونکہ یہ مال جو وہ روک رہے ہیں، قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بن جائے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل اختیار کر کے اس کے گلے میں لپیٹ دیا جائے گا اور اسے ڈسے گا۔ یہ انتہائی سخت عذاب ہے جو بخیلوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ یعنی یہ ساری کائنات فنا ہونے والی ہے، اور صرف اللہ باقی رہنے والا ہے۔ جو مال آج تم نے جمع کیا ہے، وہ کل تمہارے کام نہ آئے گا، بلکہ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ مال حقیقت میں اللہ کا دیا ہوا امانت ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں، مالک نہیں۔ جب ہم اپنے مال میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے حقیقی خیر ہے، کیونکہ یہ ہمارے گناہوں کو مٹاتا ہے اور ہمارے درجات بلند کرتا ہے۔ اس کے برعکس بخل ہمیں اللہ کی رحمت سے دور کرتا ہے اور ہمارے دلوں کو سخت کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں، جو مال ہم خرچ کرتے ہیں وہ ہمارے لیے ذخیرہ آخرت بن جاتا ہے، اور جو روک لیتے ہیں وہ ہمارے لیے وبال بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرنا نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ ہماری کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ آئیے ہم بخل سے بچیں اور فیاضی اور سخاوت کو اپنائیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکات ہمارے شامل حال ہوں۔
اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا
(لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا
جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
سورہ آل عمران آیت 180 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے…
سورہ آیت 180/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 178–182. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔