آل عمران · 66/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٌۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ  ۝٦٦
Haaa antum haaa`ulaaa`i baajajtum feemaa lakum bihee `ilmun falima tuhaaajjoonaa feemaa laisa lakum bihee `ilm; wallaahu ya`lamu wa antum laa ta`lamoon
📖 اردو ترجمہ
دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حاجَجْتُمْ: تم نے جھگڑا کیا، بحث و مباحثہ کیا۔
  • فِیمَا لَکُم بِہِ عِلْمٌ: جس چیز کا تمہیں علم ہے۔
  • فَلِمَ تُحَاجُّونَ: پھر کیوں جھگڑتے ہو۔
  • لَیسَ لَکُم بِہِ عِلْمٌ: جس کا تمہیں علم نہیں۔

تفسیر:

اے اہل کتاب! یہ تمہاری عجیب بات ہے کہ تم نے اپنے دین کے بارے میں جو کچھ تمہیں معلوم تھا، یعنی موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے معاملات میں، نبی کریم ﷺ سے بحث و مباحثہ کیا اور اپنی کتابوں کی روشنی میں دلائل پیش کیے۔ لیکن اب تم ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے لگے ہو، حالانکہ اس کا تمہیں کوئی علم نہیں، نہ تمہاری کتابوں میں اس کا ذکر ہے اور نہ ہی تمہارے پاس کوئی معتبر دلیل ہے۔

یہ تمہاری جہالت اور ضد کی انتہا ہے کہ جس چیز کا علم نہیں اس پر بھی بحث کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ حقیقتِ حال سے پوری طرح واقف ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کس دین پر تھے، لیکن تمہیں اس کا ذرہ برابر علم نہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ جس چیز کا علم ہو اس پر بات کرے، جس چیز کا علم نہ ہو اس پر خاموش رہے۔ یہی علماء کا شیوہ ہے اور یہی تقویٰ کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے، اس پر عمل کریں اور اس کی تعلیمات پر چلیں تو ہم کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ اللہ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور جہالت سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 64-68 — آل عمران

64قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـًٔا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابًا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ 
کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں
65يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ 
اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے
66هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٌۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ 
دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
67مَا كَانَ إِبۡرَٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصۡرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسۡلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ 
ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے
68إِنَّ أَوۡلَى ٱلنَّاسِ بِإِبۡرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِيُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۗ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ 
ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
66آیت

ترجمہ — آل عمران 66

سورہ آیت 66/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں