Innal laaha `indahoo `ilmus saa`ati wa yunazzilul ghaisa wa ya`lamu maa fil arhaami wa maa tadree nafsum maazaa takisbu ghadaa; wa maa tadree nafsum bi ayyi ardin tamoot; innal laaha `Aleemun Khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خداست كه مىداند كه قيامت چه وقت مىآيد. اوست كه باران مىباراند و از آنچه در رحمهاست آگاه است. و هيچ كس نمىداند كه فردا چه چيز به دست خواهد آورد و كسى نمىداند كه در كدام زمين خواهد مرد. خدا دانا و آگاه است.
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الساعَة: قیامت کا وقت۔
الْغَيْث: بارش۔
الْأَرْحَام: ماؤں کے پیٹ۔
تَدْرِي: جانتی ہے۔
عَلِيمٌ خَبِيرٌ: سب کچھ جاننے والا، باطن اور ظاہر سے باخبر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے، یعنی وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، کوئی فرشتہ، کوئی نبی یا کوئی مخلوق اس کا علم نہیں رکھتی۔ وہی بارش نازل فرماتا ہے، جب چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے، اس کی مشیت کے بغیر ایک قطرہ بھی نازل نہیں ہوتا۔ وہی جانتا ہے جو ماؤں کے رحموں میں ہے، کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی، خوش بخت ہے یا بدبخت، اور اس کے مقدر میں کیا لکھا ہے۔
پھر فرمایا: کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، یعنی کل وہ کون سا عمل کرے گا، خیر یا شر، اور اسے کیا حاصل ہوگا۔ اسی طرح کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کس سرزمین پر آئے گی، خشکی میں یا سمندر میں، مشرق میں یا مغرب میں۔ یہ سب صرف اللہ ہی جانتا ہے، کیونکہ وہ علیم و خبیر ہے، اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ ظاہر اور نہ باطن۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غیب کے ان پانچ امور کی یاد دلاتی ہے جو صرف اللہ کے پاس ہیں، تاکہ ہم اپنی زندگی میں اللہ پر مکمل بھروسہ کریں اور اپنے اعمال کی فکر کریں۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ کل کا حال ہم نہیں جانتے، تو ہمیں چاہیے کہ آج کے دن کو نیکیوں میں گزاریں، کیونکہ موت کا وقت اور جگہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ آیت ہمیں عاجزی اور تواضع سکھاتی ہے کہ ہم اپنے علم پر گھمنڈ نہ کریں، بلکہ اللہ کے علم کے سامنے سر جھکائیں۔ جو شخص ان حقیقتوں کو جان لے، وہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں ڈھال لیتا ہے اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اس لیے ہر عمل میں اس کی نگرانی کا احساس رکھیں اور اپنے مستقبل کو اس کے سپرد کر دیں، کیونکہ وہی بہترین کارساز ہے۔
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔