ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ثَمَرِهِ: اس کا پھل (یعنی درختوں کا پھل)۔
- مَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ: جو کچھ ان کے ہاتھوں نے عمل کیا، یعنی کھیتی اور باغات جو انہوں نے لگائے اور اگائے۔
- أَفَلَا يَشْكُرُونَ: کیا پھر بھی وہ شکر نہیں ادا کرتے؟
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے زمین سے پانی نکالا، اس پانی کے ذریعے درختوں اور کھیتوں کو اگایا، تاکہ انسان اس کے پھل کھائیں اور اپنی روزی حاصل کریں۔ یہ سارا انتظام اللہ کی رحمت سے ہے، نہ کہ انسان کی محنت یا طاقت سے۔ انسان صرف زمین میں بیج ڈالتا ہے اور پودا لگاتا ہے، لیکن اسے اگانے والا، پانی پہنچانے والا، پھل دینے والا صرف اللہ ہے۔ یہ نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، جن کا کوئی شمار نہیں، اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے کھائیں اور لطف اٹھائیں۔ کیا پھر بھی انسان شکر نہیں کرتا؟ شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کی عبادت کرنا، اس کے احکام ماننا، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ جو شخص ان نعمتوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ بڑا ناشکرا اور اندھا ہے۔
دعوتی پہلو:
اے بھائیو! ذرا اپنے ارد گرد دیکھو — پھل دار درخت، سبز کھیت، رزق کی فراوانی — یہ سب اللہ کی محبت کا ثبوت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم خوش رہو اور اس کا شکر ادا کرو۔ شکر کرنے سے نعمتیں بڑھتی ہیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۔" کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہاری روزی میں برکت ہو، تمہارے دل کو سکون ملے، اور تمہاری زندگی میں خوشحالی آئے؟ تو آج ہی اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی عادت ڈالو، اس کی عبادت کرو، اور اس کے دین کو اپناؤ — یہی اصل شکر ہے جو تمہیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کرے گا۔ اللہ تم سے محبت کرتا ہے اور تمہارا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہے۔
📜 آیت 33-37 — یس
ترجمہ — یس 35
سورہ آیت 35/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








