ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ہدایت: راہ دکھانا، منزلِ مقصود تک پہنچانے والا راستہ بتانا۔
- صراطِ مستقیم: سیدھا راستہ، وہ راہ جو کسی کجی اور ٹیڑھ کے بغیر براہِ راست اللہ تک پہنچاتی ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دو برگزیدہ پیغمبروں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان دونوں کو صراطِ مستقیم کی ہدایت عطا فرمائی۔ یعنی انہیں وہ سیدھا اور کھرا راستہ دکھایا جس میں کوئی کجی، ٹیڑھ یا انحراف نہیں۔ یہ راستہ درحقیقت دینِ اسلام ہے، جو تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور جسے اللہ نے اپنے ہر نبی کے ذریعے مکمل کیا۔ یہ وہ راستہ ہے جو بندے کو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے، اور جس پر چل کر انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔
اس ہدایت کا مطلب صرف راستہ بتانا نہیں، بلکہ اس پر چلنے کی توفیق دینا بھی ہے۔ اللہ نے ان دونوں پیغمبروں کو نہ صرف راستہ دکھایا بلکہ انہیں اس پر قائم رہنے کی طاقت اور استقامت بھی عطا فرمائی، یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کے سامنے حق کا بول بالا کرنے میں کامیاب ہوئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سیدھا راستہ صرف اللہ سے مانگنا چاہیے، اور ہر نماز میں ہم یہی دعا کرتے ہیں: "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" (ہمیں سیدھا راستہ دکھا)۔ یہ راستہ وہی ہے جس پر چل کر ہمارے بزرگ انبیاء چلے، اور آج بھی جو شخص اس راستے کو اپناتا ہے، اللہ اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس راستے کی پہچان حاصل کریں اور اس پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی جنت تک پہنچائے گا۔
📜 آیت 116-120 — صافات
ترجمہ — صافات 118
سورہ صافات آیت 118 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان کو سیدھا رستہ دکھایاسورہ آیت 118/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 116–120. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








