ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عِبَادِنَا: ہمارے بندے
- الْمُؤْمِنِینَ: ایمان لانے والے، سچے اہلِ ایمان
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو عظیم پیغمبروں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکرِ جمیل فرمایا ہے۔ یہ فرمانِ الٰہی دراصل ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کے لیے اللہ کی طرف سے سلامتی اور رحمت کی دعا اور ان کے اعلیٰ مقام کی توثیق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دونوں بزرگ ہمارے سچے اور کامل ایمان والے بندے تھے۔
یہاں "مؤمنین" کا لفظ صرف زبانی اقرار کا نہیں، بلکہ ایمانِ کامل، صدقِ دل، اور عملِ صالح کا مجموعہ ہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام نے اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت میں گزاری، فرعون کے ظلم کے سامنے ڈٹے رہے، اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ ان کا ایمان صرف دلوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کے اعمال، قربانیوں اور صبر میں ظاہر ہوتا تھا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل عزت اور بلندی کا معیار ایمان ہے، نہ کہ نسب، دولت یا دنیاوی مرتبہ۔ جب بندہ اپنے ایمان کو سچا کر لیتا ہے اور اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھال لیتا ہے، تو اللہ خود اس کا ذکرِ خیر کرتا ہے اور اسے اپنے مقرب بندوں میں شمار فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "اپنے مؤمن بندے" کہا۔ یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ اللہ خود کسی بندے کی گواہی دے کہ وہ مؤمن ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کے راستے میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔ اگر ہم سچے دل سے ایمان لائیں گے اور اس پر عمل کریں گے، تو اللہ ہمیں بھی اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے گا۔ یاد رکھیے، ایمان وہ دولت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنی چاہیے، اور یہی وہ چیز ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب بنائے گی۔ اللہ ہمیں حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام جیسا پختہ ایمان عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 120-124 — صافات
ترجمہ — صافات 122
سورہ صافات آیت 122 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھےسورہ آیت 122/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 120–124. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








