ترجمہ — Tafsir
یہ ہے وہ انجامِ نیک جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ اور جو لوگ حدودِ الٰہی سے تجاوز کرنے والے، کفر و معصیت میں سرکشی اختیار کرنے والے ہیں، ان کے لیے یقیناً بدترین ٹھکانہ اور نہایت برا انجام ہے۔
معانی الفاظ:
- الطاغین: حد سے بڑھنے والے، کفر و شرک اور معاصی میں سرکشی کرنے والے۔
- مآب: بازگشت کا مقام، لوٹنے کی جگہ، انجام۔
تفسیر:
اس آیت میں دو قسم کے لوگوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پہلی قسم متقیوں کی ہے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا کہ ان کے لیے حسنِ انجام، جنت کے باغات اور نعمتیں ہیں۔ دوسری قسم طاغین کی ہے یعنی وہ لوگ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، کفر و شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور گناہوں پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے لیے بدترین انجام ہے، وہ جہنم ہے جو ہر طرف سے انہیں گھیر لے گی۔ یہ ان کا آخری ٹھکانہ ہوگا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
یہ اللہ کا عادلانہ فیصلہ ہے کہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا بدلہ ملے گا اور بدکاروں کو ان کی بدکاری کا۔ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا، بلکہ لوگ خود اپنے اعمال سے اپنا انجام طے کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، کفر و شرک سے بچیں اور گناہوں سے توبہ کریں۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کا انجام نہیں، اصل زندگی آخرت کی ہے، اس لیے وہاں کی کامیابی کے لیے آج کوشش کریں۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اور ہمیں طاغینوں کے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 53-57 — ص
ترجمہ — ص 55
سورہ ص آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے…سورہ آیت 55/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








