ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السَّيِّئَاتِ: برے کام، گناہ۔
- حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ: یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آ جائے، یعنی سکراتِ موت کا وقت آ جائے۔
- أَعْتَدْنَا: ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
- عَذَابًا أَلِيمًا: دردناک عذاب۔
تفسیرِ آیات:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں توبہ کی قبولیت کی ایک اہم شرط بیان فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کاموں پر اصرار کرتے رہیں، گناہوں میں ڈوبے رہیں اور اللہ کی طرف رجوع نہ کریں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آ جائے، سانس اٹکنے لگے اور وہ عین اس عالمِ نزع میں پہنچ جائے، تو اس وقت کہے: "میں نے اب توبہ کی۔" ایسی توبہ قبول نہیں ہوتی، کیونکہ یہ توبہ مجبوری کی توبہ ہے، اختیار کی نہیں۔ جب انسان موت کے فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے اور آخرت کا یقین اس پر غالب آ جاتا ہے، تو اس وقت کا ایمان اور توبہ نفع نہیں دیتی، جیسا کہ فرعون نے جب غرقاب ہونے لگا تو کہا تھا "میں ایمان لایا"، لیکن اس کا ایمان قبول نہیں ہوا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کی بھی توبہ قبول نہیں ہوگی جو کفر کی حالت میں مریں، یعنی وہ لوگ جو اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی موت کو پہنچ جائیں اور کافر ہی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں۔ ان کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان دو قسموں کے لوگوں کو برابر قرار دیا ہے: ایک وہ جو توبہ کو موت کے آنے تک مؤخر کرتے رہتے ہیں، اور دوسرے وہ جو کفر ہی پر مر جاتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ دونوں کی توبہ اور ایمان اس وقت قبول نہیں ہوتا جب روح نکلنے لگے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک انتہائی اہم سبق سکھاتی ہے کہ توبہ میں دیر نہ کریں۔ شیطان ہمیشہ ہمیں کل پر ٹالنے کی ترغیب دیتا ہے، کہتا ہے کہ ابھی جوان ہو، مزے کرو، بڑھاپے میں توبہ کر لینا۔ لیکن کس نے موت کا وقت معلوم کیا ہے؟ کبھی کوئی جوان اچانک حادثے میں مر جاتا ہے، کبھی کوئی بیمار پڑ کر دم توڑ دیتا ہے۔ کیا ہم اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ ہم کل تک زندہ رہیں گے؟ ہرگز نہیں۔
اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن یہ رحمت اس وقت تک ہے جب تک انسان زندہ ہے اور اس کے پاس اختیار ہے۔ جیسے ہی موت کا وقت آئے گا، توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اس لیے آج ہی، اسی وقت، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اللہ کی طرف رجوع کریں، نماز قائم کریں، نیک اعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے میرے بندو! جو اپنی جانوں پر ظلم کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔" (الزمر: 53)
آئیے! ہم سب مل کر آج ہی اپنی زندگیوں کو سنواریں، گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائیں، تاکہ ہم اس دردناک عذاب سے بچ جائیں اور اللہ کی جنت کے وارث بنیں۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 16-20 — نساء
ترجمہ — نساء 18
سورہ نساء آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری…سورہ آیت 18/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








