غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَوَقَاهُ: اللہ نے اسے محفوظ رکھا۔
سَیِّئَاتِ مَا مَکَرُوا: ان مکاریوں کے برے نتائج۔
حَاقَ: احاطہ کر لیا، گھیر لیا۔
سُوءُ الْعَذَابِ: برا عذاب، یعنی غرق کا عذاب۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُس مومنِ صادق کا انجام بیان فرمایا ہے جس نے فرعون کے سامنے حق کی آواز بلند کی تھی اور اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تھا۔ جب فرعون اور اس کے درباریوں نے اُس مؤمن کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے خلاف مکاریاں رچیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے اُس بندۂ مؤمن کو ان تمام سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا۔ وہ ان کے مکر و فریب کے جال سے بالکل محفوظ رہا، اور ان کی تدبیریں اُلٹی پڑ گئیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب جو ان کے لیے تھا، وہ ان پر اس طرح مسلط ہوا کہ انہیں کوئی راہِ فرار نہ ملی۔ انہیں دنیا میں غرق کا عذاب دیا گیا، اور آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو ان کے دشمنوں کے شر سے بچاتا ہے، اور ظالموں کو ان کی سزا دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ چاہے ساری دنیا ہی مخالف ہو جائے، اللہ اپنے بندے کے لیے نجات کا راستہ ضرور پیدا فرماتا ہے۔ جس طرح اُس مؤمن نے حق کہنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اللہ نے اسے عزت کے ساتھ بچا لیا، اسی طرح آج بھی جو بندے حق پر قائم رہتے ہیں، اللہ انہیں ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔ اور ظالموں کا انجام بھی فرعون جیسا ہی ہوتا ہے — دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ حق کی حمایت کریں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کیونکہ اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں
اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔