یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
النَّارُ: آگ (جہنم کی آگ)
يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا: انہیں اس پر پیش کیا جاتا ہے (یعنی اس کا سامنا کرایا جاتا ہے)
غُدُوًّا: صبح کے وقت
عَشِيًّا: شام کے وقت
أَدْخِلُوا: داخل کرو (حکم دیا جائے گا)
آلَ فِرْعَوْنَ: فرعون کی قوم/ساتھی
أَشَدَّ الْعَذَابِ: سب سے سخت عذاب
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرعون اور اس کی قوم کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں۔ جب انہوں نے دنیا میں کفر و سرکشی کی انتہا کر دی اور موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا، تو اللہ نے انہیں سمندر میں غرق کر کے ہلاک کر دیا۔ لیکن موت کے بعد ان کا عذاب ختم نہیں ہوا، بلکہ اب وہ برزخ کے مرحلے میں ہیں جہاں انہیں قبروں میں جہنم کی آگ پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی ان کی روحوں کو بار بار آگ کا سامنا کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے انجام کی جھلک دیکھتے رہیں۔
یہ عذاب قبر کی ایک واضح دلیل ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ میت کو صبح و شام اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ پھر جب قیامت کا دن آئے گا، تو حکم ہوگا: "فرعون کی قوم کو سب سے سخت عذاب میں داخل کرو۔" یہ عذاب قبر کے عذاب سے کہیں زیادہ شدید اور دائمی ہوگا، جو ہمیشہ رہے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے۔ فرعون جیسی طاقت اور شوکت بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، کیونکہ موت کے بعد ہر عمل کا حساب ہوگا۔ یہ آیت ہمیں آخرت پر ایمان کی مضبوطی اور نیک اعمال کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ ہم اس سخت عذاب سے بچ سکیں اور اللہ کی رحمت کے حقدار بن سکیں۔ اللہ ہمیں عذاب قبر اور جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔
اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔