ترجمہ — Tafsir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
معانی الفاظ:
- بَشِيرًا: خوشخبری دینے والا، یعنی جنت اور ثواب کی بشارت دینے والا۔
- نَذِيرًا: ڈرانے والا، یعنی عذاب اور سزا سے خبردار کرنے والا۔
- فَأَعْرَضَ: پس منہ موڑ لیا۔
- لَا يَسْمَعُونَ: وہ نہیں سنتے، یعنی سننے کے باوجود قبول نہیں کرتے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ قرآن مجید کے دو عظیم صفات کو بیان کرتی ہے، جو اس کی دعوت اور پیغام کی روح ہیں۔ قرآن کریم ایک طرف بشیر ہے، یعنی خوشخبری دینے والا۔ یہ ان لوگوں کے لیے خوشخبری لاتا ہے جو ایمان لاتے ہیں، نیک عمل کرتے ہیں، اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں سکون، اطمینان اور کامیابی ہے، اور آخرت میں جنت کی ابدی نعمتیں، جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں، کسی کان نے نہیں سنیں، اور کسی دل نے تصور نہیں کیا۔ یہ خوشخبری مومن کے دل کو طاقت دیتی ہے، اسے ثابت قدم رکھتی ہے، اور اسے عمل کی ترغیب دیتی ہے۔
دوسری طرف قرآن کریم نذیر ہے، یعنی ڈرانے والا۔ یہ ان لوگوں کو خبردار کرتا ہے جو اسے جھٹلاتے ہیں، اس کی آیات سے منہ موڑتے ہیں، اور اپنی سرکشی اور گناہوں پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی، پریشانی اور عذاب ہے، اور آخرت میں جہنم کا دردناک عذاب، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ یہ ڈرانا رحمت ہے، کیونکہ یہ انسان کو غفلت سے جگاتا ہے، اسے راہ راست پر لانے کا ذریعہ بنتا ہے، اور اسے اپنے انجام کی فکر دلاتا ہے۔
لیکن افسوس! اس کے باوجود اکثر لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ انہوں نے اس پیغام کو قبول نہیں کیا، اس کی نصیحتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا، اور اس کی روشنی سے ہدایت حاصل نہیں کی۔ وہ ایسے ہیں جیسے سنتے ہی نہیں، حالانکہ ان کے کان ہیں، لیکن وہ سننے کے قابل نہیں رہے۔ ان کا سننا صرف ظاہری آواز تک محدود ہے، لیکن دل کی سماعت بند ہو چکی ہے۔ وہ قرآن کی آیات کو سنتے ہیں، لیکن ان پر غور نہیں کرتے، انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہ وہ سماعت نہیں جو نفع دے، بلکہ یہ محض آواز کا اثر ہے، جس کا دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآن کے ساتھ کیا رویہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم اسے صرف تلاوت کے لیے رکھتے ہیں، یا اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے؟ کیا ہم اس کی بشارتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے ڈراؤنے سے ڈرتے ہیں؟ کیا ہم اسے سنتے ہیں اور سن کر قبول کرتے ہیں، یا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے منہ موڑ لیا؟
یاد رکھیں! قرآن وہ کتاب ہے جسے اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے اتارا ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب بنا سکتی ہے۔ جو شخص اسے قبول کرتا ہے، وہ حقیقی کامیابی پاتا ہے، اور جو اس سے اعراض کرتا ہے، وہ خسارے میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآن کو سنیں، سمجھیں، اور اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ آمین۔
📜 آیت 2-6 — فصلت
ترجمہ — فصلت 4
سورہ آیت 4/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








