زخرف · 50/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ۝٥٠
Falammaa kashafnaa `anhumul `azaaba izaa hum yankusoon
📖 اردو ترجمہ
سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • كَشَفْنَا: ہم نے دور کر دیا، ہٹا دیا۔
  • الْعَذَابَ: عذاب، سزا۔
  • يَنكُثُونَ: عہد توڑتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں۔

تفسیر:

جب فرعون اور اس کی قوم پر عذاب آیا، تو انہوں نے سخت پریشانی اور تکلیف میں مبتلا ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے التجا کی کہ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ عذاب ہم سے دور ہو جائے، اور ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی، اور اللہ نے اپنی قدرت اور رحمت سے وہ عذاب ان سے دور کر دیا۔ لیکن جیسے ہی عذاب دور ہوا، انہوں نے اپنے وعدے کو توڑ دیا، اپنے عہد سے پھر گئے، اور اپنے کفر و ضلالت پر اسی طرح قائم رہے جیسے پہلے تھے۔ انہوں نے نہ تو ایمان لائے، نہ شکر ادا کیا، بلکہ اپنی سرکشی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔

یہ آیت ہمیں ان لوگوں کے حال سے آگاہ کرتی ہے جو مصیبت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں، لیکن راحت ملتے ہی اسے بھول جاتے ہیں۔ یہ ان کی منافقت اور کمزور ایمان کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل کیا کہ عذاب دور فرمایا، لیکن انہوں نے ناشکری کی اور اپنے عہد کو توڑ دیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر گزار بندہ رہے۔ مصیبت میں اللہ سے دعا کرنا اور راحت ملنے پر اس کا شکر ادا کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ جو لوگ صرف مصیبت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسانی میں اسے بھول جاتے ہیں، وہ فرعون کی قوم جیسے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب سے ہمیشہ جڑے رہیں، اس کے احسانات کو یاد رکھیں، اور اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ان کی پکار سنتا ہے اور ان کی مشکلات دور فرماتا ہے، لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی نعمتوں کے بعد اس کے شکر گزار بندے بن کر رہیں، نہ کہ ناشکری اور سرکشی کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احسانات یاد رکھنے اور ہمیشہ اپنی عبادت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 48-52 — زخرف

48وَمَا نُرِيهِم مِّنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں
49وَقَالُوا يَا أَيُّهَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ
اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے
50فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے
51وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
52أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
50آیت

ترجمہ — زخرف 50

سورہ زخرف آیت 50 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا…

سورہ آیت 50/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 48–52. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں