زخرف · 75/89
ترجمہ تلفظ — زخرف
لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ۝٧٥
Laa yufattaru `anhum wa hum feehi mublisoon
📖 اردو ترجمہ
جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ: ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا، نہ تھوڑی دیر کے لیے۔
  • مُبْلِسُونَ: آس توڑ چکے ہوں گے، مایوس و ناامید، بالکل خاموش اور شرمسار۔

تفسیرِ آیہ:

یہ آیتِ کریمہ ان مجرموں کے انجامِ بد کا نقشہ پیش کرتی ہے جنہوں نے دنیا میں کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، اور ان کا عذاب نہ کبھی ہلکا ہوگا اور نہ ان سے دور کیا جائے گا۔ نہ تو انہیں کوئی مہلت دی جائے گی، نہ کوئی آرام کا لمحہ نصیب ہوگا۔

اور جب وہ اس عذاب میں گھرے ہوں گے تو وہ "مُبْلِسُونَ" ہوں گے یعنی ہر طرف سے مایوس، بالکل خاموش، شرمندگی اور ندامت سے سر جھکائے ہوئے۔ ان کی زبان سے کوئی عذر نہیں نکلے گا، کوئی فریاد نہیں اٹھے گی، کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ اب کوئی چارہ نہیں، رحمت کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ یہ وہ مایوسی ہے جو کسی امید کے ساتھ نہیں ہوتی — نہ کوئی سفارشی، نہ کوئی مددگار، نہ کوئی راہِ فرار۔

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے فرمایا: "اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود ہی ظالم تھے" — یعنی یہ عذاب اللہ کی طرف سے کوئی ناانصافی نہیں، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ انہوں نے حق کو جھٹلایا، اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا، اور اپنے رسولوں کی اطاعت سے منہ موڑا۔ پس جو شخص خود اپنے ہاتھوں اپنا انجام برا کر لے، اسے کس سے شکایت ہو؟

دعوتی پہلو:

اس آیتِ کریمہ سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ دنیا میں کھلا ہوا ہے۔ جب تک سانس باقی ہے، توبہ کی گنجائش ہے۔ لیکن جو شخص اللہ کے دین سے غفلت برتے، اپنی خواہشات کو معبود بنا لے، اور رسولوں کی تعلیمات کو نظر انداز کرے، اس کا انجام یہی ہے — دائمی عذاب اور مایوسی۔

آج ہم میں سے ہر شخص کو سوچنا چاہیے: کیا ہم اللہ کے احکام پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھال رہے ہیں؟ اگر ہاں، تو اللہ کی رحمت ہمارے شاملِ حال ہے۔ اور اگر نہیں، تو آج ہی واپسی کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔

یاد رکھیے! جنت کی راہ آسان ہے، لیکن اس کے لیے ایمان و عمل کی ضرورت ہے۔ اور جہنم کا راستہ بھی آسان ہے، لیکن اس کا انجام انتہائی دردناک ہے۔ اللہ ہمیں اس عذاب سے بچائے اور ہمیں سیدھی راہ پر چلائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — زخرف

73لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ
وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے
74إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ
(اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے
75لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ
جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے
76وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے
77وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ
اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے
زخرفقرآن فہرست
89آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — زخرف 75

سورہ زخرف آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ…

سورہ آیت 75/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں