ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- شَجَرَتَ الزَّقُّومِ: زقوم ایک ایسا درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی تہہ میں پیدا کیا ہے۔ اس کا پھل کھانے میں انتہائی کڑوا اور بدبودار ہوتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے اس درخت کا ذکر فرمایا ہے جس کا نام "زقوم" ہے۔ یہ درخت جہنم کے سب سے نچلے حصے میں اگتا ہے، اور اس کا پھل گناہ گاروں کی خوراک ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اس کی نافرمانی کی، اور اپنے گناہوں میں حد سے تجاوز کیا۔ زقوم کا درخت اس قدر تلخ اور گھناؤنا ہے کہ اس کا ذکر سن کر ہی انسان کا جی گھبرا جاتا ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے سزا ہے جنہوں نے دنیا میں اللہ کی رحمت اور ہدایت کو ٹھکرایا۔
یہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے گناہوں سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی یہی ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی وہ اپنی رحمت کا دروازہ بھی کھلا رکھتے ہیں کہ جو بھی توبہ کر لے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کس راستے پر چل رہے ہیں۔ کیا ہم اللہ کی اطاعت کرتے ہیں یا اپنی خواہشات کی پیروی؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں جنت اور جہنم دونوں کا نقشہ کھینچ کر بتا دیا ہے تاکہ ہم عقل سے کام لیں اور اس راستے کو چنیں جو ہمیشہ کی کامیابی کا راستہ ہے۔ آئیے ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ آئیں، اور اس درخت زقوم سے بچنے کی دعا کریں جو گناہ گاروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں جنت الفردوس کا راستہ دکھائے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 41-45 — دخان
ترجمہ — دخان 43
سورہ دخان آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلاشبہ تھوہر کا درختسورہ آیت 43/59 — دخان الدخان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: دخان سنیں, دخان ترجمہ, دخان mp3, دخان pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








