ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَخَافُونَ: اللہ سے ڈرنے والے، خشیت رکھنے والے۔
- أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا: اللہ نے ان دونوں پر فضل و کرم کیا، یعنی ایمان اور ثابت قدمی کی دولت سے نوازا۔
- الْبَابَ: شہر کا دروازہ، جس کے اندر جبار (ظالم اور طاقتور) لوگ آباد تھے۔
- غَالِبُونَ: غالب آنے والے، فتح پانے والے۔
- تَوَكَّلُوا: بھروسہ کرو، اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرو۔
تفسیر:
یہ وہ موقع تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ زمینِ مقدس (بیت المقدس) میں داخل ہوں، جہاں طاقتور اور ظالم جبار قوم آباد تھی۔ بنی اسرائیل نے ڈر کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جا سکتے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اس پر دو ایسے شخص جو اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ نے انہیں ایمان، حکمت اور ثابت قدمی کی دولت سے نوازا تھا، اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے قوم کو جرات دلائی اور کہا: "تم ان جباروں کے شہر کے دروازے پر حملہ کرو، اور جب تم اس دروازے میں داخل ہو جاؤ گے تو یقیناً تم غالب آ جاؤ گے۔"
ان دو حضرات کا مقصد تھا کہ بنی اسرائیل اللہ کے وعدے پر بھروسہ کریں اور اسباب اختیار کریں، کیونکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد اس وقت کرتا ہے جب وہ ایمان کے ساتھ عملی جدوجہد کریں۔ انہوں نے یہ بھی سکھایا کہ فتح کا راز صرف تعداد یا ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کے وعدے پر یقین میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا: "اور اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔" یعنی ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دے، کیونکہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم سبق ہے کہ اللہ کی مدد کے لیے صرف دعا کافی نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ ان دو بزرگوں نے خود کو حملے کے لیے تیار کیا اور قوم کو بھی تیار کیا، لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت نے ڈر اور بزدلی کا راستہ چنا، جس کی وجہ سے وہ چالیس سال تک صحرا میں بھٹکتے رہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ مشکلات میں گھبراتا نہیں، بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عملی اقدام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے ایمان کا عملی ثبوت دے۔ آج بھی اگر ہم اپنی زندگیوں میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام پر عمل کریں، اس پر توکل کریں، اور اپنے کاموں میں محنت اور کوشش کریں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یاد رکھیں، ایمان اور توکل ہی وہ دو بازو ہیں جن سے مومن بلندیوں تک پہنچتا ہے۔
📜 آیت 21-25 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 23
سورہ مائدہ آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو…سورہ آیت 23/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








