اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو اور لوگوں کو اس عظیم عبادت کی طرف بلاتے ہو، تو یہود، نصاریٰ اور مشرکین اس اذان اور نماز کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ وہ تمہاری پکار پر ہنستے ہیں، اسے بےوقعت سمجھتے ہیں، اور تمہارے اس عمل کا استہزاء کرتے ہیں۔ یہ ان کا رویہ اس لیے ہے کہ وہ قوم ہے جو عقل سے کام نہیں لیتی۔ اگر وہ عقل سے کام لیتے تو سمجھ لیتے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا بہترین ذریعہ ہے، اور یہی وہ عبادت ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتی ہے اور اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔ لیکن ان کی سمجھ پر پردہ پڑا ہوا ہے، اس لیے وہ حق کو حق نہیں سمجھتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! جب دشمنانِ اسلام ہمارے دین اور ہماری عبادات کا مذاق اڑاتے ہیں، تو یہ دراصل ان کی کم عقلی اور جہالت کی علامت ہے۔ ہمیں ان کے طعنوں سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تو ہمارے ایمان کی سچائی کی دلیل ہے کہ جب سچائی ظاہر ہوتی ہے تو باطل والے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نماز کو محبت اور خشوع سے پڑھیں، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور اس عظیم نعمت کی قدر کریں جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے۔ نماز ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے، ہمارے دلوں کو سکون دیتی ہے، اور ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتی ہے۔ آئیے ہم نماز کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگی کا حقیقی زیور بنائیں، تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو عقل سے محروم ہیں۔ اللہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور نماز کو ہمارے لیے نور اور سکون کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو
کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں
کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔