Qul yaaa Ahlal Kitaabi lastum `alaa shai`in hattaa tuqeemut Tawraata wal Injeela wa maaa unzila ilaikum mir Rabbikum; wa layazeedanna kaseeram minhum maa unzila ilaika mir Rabbika tugh yaananw wa kufran falaa taasa `alal qawmil kaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: اى اهل كتاب، شما هيچ نيستيد، تا آنگاه كه تورات و انجيل و آنچه را از جانب پروردگارتان بر شما نازل شده است بر پاى داريد. آنچه از جانب پروردگارت بر تو نازل شده است بر طغيان و كفر بيشترينشان بيفزايد. پس بر اين مردم كافر غمگين مباش.
کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ: یعنی تورات اور انجیل پر عمل کریں، ان کے احکام کو قائم کریں اور انہیں زندہ کریں۔
طُغْيَانًا: سرکشی، حد سے تجاوز کرنا۔
فَلَا تَأْسَ: غم نہ کرو، افسوس نہ کرو۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! تم اس وقت تک کسی بھی چیز پر نہیں ہو، یعنی تمہارا کوئی دین نہیں، تمہارا کوئی اعتبار نہیں، جب تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم نہ کرو، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے (یعنی قرآن مجید) اس پر عمل نہ کرو۔ کیونکہ تورات اور انجیل میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی تھی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا۔ چنانچہ جب تک تم ان کتابوں پر صحیح معنوں میں عمل نہیں کرو گے، تمہارا کوئی دین نہیں۔
اور اے نبی! یہ بات یقینی ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب سے نازل کیا گیا ہے (یعنی قرآن)، وہ ان کی سرکشی اور کفر میں اضافے کا سبب بنے گا، کیونکہ وہ حسد کی وجہ سے آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور حق کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ پس آپ ان کافر لوگوں پر غم نہ کریں، کیونکہ آپ کے پاس جو مومن ہیں وہی آپ کے لیے کافی ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ محض نام لے لینے سے کوئی شخص دین پر نہیں ہوتا، بلکہ اصل چیز کتاب اللہ پر عمل کرنا ہے۔ جس طرح اہل کتاب کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی کتابوں پر عمل کریں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، اسی طرح ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ہم قرآن کریم کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس پر عمل کریں، اس کے احکام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے، اور جو شخص قرآن پر عمل کرتا ہے وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں
اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا
کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔