ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قِیَام: کھڑے ہونے کی طاقت، اٹھنے کی استطاعت۔
- مُنتَصِرِین: مدد پانے والے، اپنے آپ کو بچانے والے، غالب آنے والے۔
تفسیر:
جب عذابِ الٰہی نازل ہوتا ہے تو نہ کوئی بھاگ سکتا ہے اور نہ کسی میں اٹھ کر کھڑے ہونے کی طاقت باقی رہتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان قوموں کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور سرکشی پر اڑے رہے۔ جب ان پر عذاب آیا تو وہ نہ تو اٹھ کر بھاگ سکے، نہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے کوئی تدبیر کر سکے، اور نہ ہی انہیں کسی طرف سے مدد پہنچی۔ وہ بالکل بے بس اور مغلوب ہو کر تباہ و برباد ہو گئے۔
یہ آیت مومن کے لیے بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ اللہ کی گرفت سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اور اسے کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا۔ لیکن جو سرکشی کرتا ہے، وہ سمجھ لے کہ اللہ کی پکڑ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے اور نہ کوئی اس کی مدد کر سکتا ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی قدرت کامل ہے اور وہی حقیقی مددگار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں، اس کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہیں۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ آئیے ہم سب اللہ کی رحمت کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں تاکہ ہم اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی جنت کے وارث بنیں۔
📜 آیت 43-47 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 45
سورہ ذاریات آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور…سورہ آیت 45/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








