ترجمہ — Tafsir
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
معانی الفاظ:
- أَمْ: بل، یا یہ کہ (استفہام انکاری کے معنی میں)۔
- شَاعِرٌ: شاعر (نبی نہیں)۔
- نَّتَرَبَّصُ: ہم انتظار کرتے ہیں۔
- رَيْبَ الْمَنُونِ: زمانے کے حوادث، موت کے مصائب، گردشِ زمانہ۔
تفسیر:
یہ آیت مشرکینِ مکہ کی اس گستاخانہ روش کی نشاندہی کرتی ہے جب وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ شاعر ہیں، نبی نہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ہم ان کے بارے میں موت کے انتظار میں ہیں، کہیں زمانے کے حوادث انہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں اور ہم ان سے چھٹکارا پا جائیں۔ یہ ان کی جہالت اور کج فہمی کی انتہا تھی کہ وہ حق کو ماننے کے بجائے نبی ﷺ کی موت کا انتظار کر رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیالِ خام کا رد فرماتے ہوئے انہیں متنبہ کیا کہ ان کی یہ امید باطل ہے، کیونکہ حق تو قائم رہنے والا ہے اور باطل کو مٹنا ہے۔ یہاں اللہ نے ان کے اس رویے پر تعجب کا اظہار فرمایا کہ کیا وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ شاعر ہیں؟ حالانکہ ان کی زندگی، اخلاق، دعوت اور لائی ہوئی کتابِ الٰہی ہر چیز اس بات کی شاہد ہے کہ وہ شاعر نہیں بلکہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے دشمن چاہے کتنی ہی چالیں چلیں، کتنے ہی منصوبے بنائیں، لیکن اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کے ساتھ ایسی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں، ان کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہیں اور ان کے دشمنوں کی سازشوں سے بے خوف ہو کر اپنا ایمان مضبوط رکھیں، کیونکہ اللہ اپنے دین کی حفاظت کا وعدہ فرما چکا ہے۔
📜 آیت 28-32 — طور
ترجمہ — طور 30
سورہ طور آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم…سورہ آیت 30/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








