ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قوم لوط: حضرت لوط علیہ السلام کی قوم۔
- بالنذر: ان تنبیہات اور ڈراوں کو جو ان کے پاس آئے، یعنی اللہ کے عذاب کے وعدے اور رسول کی دعوت۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا ہے، جنہوں نے اپنے نبی کی لائی ہوئی تمام تنبیہات اور ڈراوں کو جھٹلا دیا۔ یہ وہ قوم تھی جو اپنی شہوت پرستی، بدکاری اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی میں حد سے تجاوز کر چکی تھی۔ ان کے پاس حضرت لوط علیہ السلام بطور رسول آئے اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن انہوں نے نہ صرف ان کی بات نہ مانی بلکہ ان کی دعوت کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے۔
یہاں "بالنذر" سے مراد وہ تمام انتباہات ہیں جو حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیے تھے، جن میں اللہ کا عذاب، ان کے گناہوں کی سزا، اور قیامت کا ڈر شامل تھا۔ انہوں نے ان سب کو جھٹلا کر اپنے انجام کو دعوت دی، اور آخرکار اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا جس نے انہیں تباہ کر کے رکھ دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ اللہ کے رسولوں کی تنبیہات کو ہلکا نہ سمجھیں۔ آج بھی اللہ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے ڈرایا ہے، اور ہم پر یہ فرض ہے کہ ان تنبیہات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں۔ جو قومیں اپنے نبیوں کی تنبیہات کو جھٹلاتی ہیں، ان کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ آئیں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے اور ان پر رحمت فرماتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈریں اور اپنی آخرت کی فکر کریں، کیونکہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت ہی کا حقیقی ٹھکانہ ہے۔
📜 آیت 31-35 — قمر
ترجمہ — قمر 33
سورہ قمر آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا…سورہ آیت 33/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








