ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَطْشَتَنَا: ہماری پکڑ، یعنی عذاب اور سزا جو ہم نے نازل کرنی تھی۔
- فَتَمَارَوْا: انہوں نے جھگڑا کیا، شک کیا اور بحث کی۔
- بِالنُّذُرِ: انتباہ اور ڈرانے والی باتوں کے بارے میں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے حال سے آگاہ کر رہے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تھا، انہیں بتایا تھا کہ اگر تم اپنی بدکاریوں اور گناہوں سے باز نہ آئے تو اللہ کی پکڑ تم پر نازل ہوگی۔ لیکن ان کی قوم نے نہ صرف اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیا، بلکہ اس پر جھگڑا کیا، شک کیا اور اسے جھٹلایا۔ وہ ڈرانے والی باتوں کو مذاق سمجھتے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام کی نصیحت کو بے بنیاد قرار دیتے تھے۔
یہ طرزِ عمل ان لوگوں کا ہے جو حق کو سن کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، بلکہ دلائل اور بحث سے اسے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے نبی کی بات کو جھٹلا کر حقیقت میں اللہ کے عذاب کو دعوت دی، اور پھر جو ہوا وہ تاریخ کا ایک عبرتناک واقعہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کے انتباہ کو کبھی ہلکا نہ سمجھیں۔ جب کوئی ناصح، عالم یا داعی ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہے، تو ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے، نہ کہ اس پر بحث اور جھگڑا کریں۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، اور جو لوگ اس کے انتباہ کو جھٹلاتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ نصیحت سن کر اسے رد کر دیتے ہیں، لیکن مومن کی شان یہ ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے اور اپنی زندگی کو سنوارے۔ اللہ ہمیں نصیحت قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 34-38 — قمر
ترجمہ — قمر 36
سورہ قمر آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی…سورہ آیت 36/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








