قمر · 37/55
ترجمہ تلفظ — قمر
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ ۝٣٧
Wa laqad raawadoohu `andaifee fatamasnaaa a`yunahum fazooqoo `azaabee wa nuzur
📖 اردو ترجمہ
اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَاوَدُوهُ: انہوں نے لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا اور اصرار کیا۔
  • عَن ضَیْفِهِ: ان کے مہمانوں کے بارے میں (کہ انہیں ان کے حوالے کر دیں
  • فَطَمَسْنَا: تو ہم نے مٹا دیا (یعنی اندھا کر دیا
  • أَعْیُنَهُمْ: ان کی آنکھیں۔
  • نُذُرِ: میرا ڈرانا اور عذاب کا وعدہ۔

تفسیر آیہ:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے اس سنگین جرم کا ذکر کیا ہے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ہوئے مہمانوں (جو فرشتے تھے) کے ساتھ بری حرکت کا ارادہ کیا۔ وہ لوگ ضد اور ڈھٹائی پر اتر آئے تھے اور نبی اللہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کر دو۔ یہ ان کی انتہائی شرارت اور اخلاقی پستی تھی کہ انہوں نے اپنے نبی کی مہمان نوازی کا بھی احترام نہ کیا اور برائی پر اصرار کیا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور ان ظالموں کی آنکھوں کو مٹا دیا، یعنی انہیں اندھا کر دیا تاکہ وہ مہمانوں کو نہ دیکھ سکیں اور ان کا ارادہ ناکام ہو جائے۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک معجزہ تھا جو اس نے اپنے نبی کی عزت کے لیے دکھایا۔ پھر ان سے کہا گیا: "اب عذاب کا مزہ چکھو جو میں نے تمہیں ڈراتے ہوئے کہا تھا۔" یعنی یہ عذاب اس بات کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول کی بات نہ مانی اور اپنی سرکشی پر قائم رہے۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی عزت کو ٹھیس پہنچانے والوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ دوسرا یہ کہ برائی اور فحاشی کی دعوت دینے والے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب انسان حد سے تجاوز کر جائے اور اپنے نبی کی نصیحت کو ٹھکرا دے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں حضرت لوط علیہ السلام کی طرح صبر اور استقامت اپنائیں، اور برائی کے خلاف کھڑے ہوں، کیونکہ اللہ ہمیشہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی پناہ میں آنے والا کبھی ذلیل نہیں ہوتا، اور جو اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرے، اللہ اس کی مدد ضرور فرماتا ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، تاکہ ہم بھی اللہ کی حفاظت اور رحمت کے مستحق بن سکیں۔



📜 آیت 35-39 — قمر

35نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ
اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
36وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ
اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا
37وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
38وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا
39فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
قمرقرآن فہرست
55آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — قمر 37

سورہ قمر آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا…

سورہ آیت 37/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں