ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَبَّحَهُم: ان پر صبح کے وقت آیا۔
- بُکْرَةً: صبح کا ابتدائی حصہ۔
- مُسْتَقِرٌّ: قائم رہنے والا، جو ان پر اس طرح مسلط ہو گیا کہ پھر ٹلنے والا نہیں تھا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے انجام کو بیان فرمایا ہے کہ جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا اور اپنی بدکاریوں پر اصرار کیا، تو اللہ کا عذاب ان پر صبح کے وقت نازل ہوا۔ یہ عذاب کوئی عارضی یا وقتی نہیں تھا، بلکہ "مستقر" تھا، یعنی ایسا عذاب جو ان پر قائم ہو گیا اور انہیں گھیر لیا۔ یہ عذاب پتھروں کی بارش، ان کی بستیوں کے الٹ جانے اور زمین میں دھنسنے کی صورت میں آیا، اور یہ عذاب ان کے ساتھ آخرت تک جاری رہنے والا تھا، کیونکہ یہ دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
اس میں عبرت ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کو کبھی مہلت ملتی ہے، لیکن جب عذاب آتا ہے تو وہ رات یا دن کے کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ صبح کا وقت اس لیے خاص کیا گیا کہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنے کاموں کے لیے نکلتے ہیں، اور اچانک عذاب کا آنا زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام بہت برا ہوتا ہے، اور جو قومیں اپنے نبیوں کو جھٹلاتی ہیں، ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کے احکامات پر عمل کریں، کیونکہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے اور ساتھ ہی یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم لوط علیہ السلام کی قوم جیسے انجام سے بچنے کے لیے راہِ راست پر چلیں اور اپنے معاشرے میں برائیوں کو پھیلنے سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 36-40 — قمر
ترجمہ — قمر 38
سورہ قمر آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل…سورہ آیت 38/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








