يَنْهَوْنَ عَنْهُ: لوگوں کو اس (رسول اور قرآن) سے روکتے ہیں۔
يَنْأَوْنَ عَنْهُ: خود اس سے دور بھاگتے ہیں۔
يُهْلِكُونَ: ہلاک کرتے ہیں۔
يَشْعُرُونَ: محسوس کرتے ہیں، سمجھتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ اور قرآنِ حکیم کے سخت مخالف تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ خود بھی حق سے منہ موڑے ہوئے تھے اور دوسروں کو بھی راہِ حق سے روکتے تھے۔ وہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی زیارت، آپ کی دعوتِ توحید سننے اور قرآن پاک پر غور کرنے سے منع کرتے تھے، تاکہ کوئی شخص ایمان نہ لا سکے۔ ساتھ ہی وہ خود بھی آپ ﷺ سے دور بھاگتے تھے، آپ کی مجلس میں نہ آتے اور آپ کی تعلیمات سے فائدہ نہ اٹھاتے۔ اس طرح وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے اور خود بھی گمراہ رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اس فعلِ بد سے حقیقت میں اپنے سوا کسی کو ہلاک نہیں کر رہے۔ ان کا یہ نقصان صرف انہیں تک محدود ہے، کیونکہ وہ اپنے دشمنی کے جذبے سے اپنے ایمان کو کھو رہے ہیں اور آخرت میں اپنے لیے عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انہیں اس کا شعور تک نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا نقصان کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو رد کرنے والا اور دوسروں کو حق سے روکنے والا دراصل اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اللہ کا دین کبھی کسی کے روکنے سے نہیں رکتا، بلکہ نقصان اٹھانے والا وہی ہوتا ہے جو حق سے محروم رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی قرآن و سنت سے وابستہ رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ یاد رکھیں، جو شخص کسی کو نیکی کی دعوت دیتا ہے اور خود اس پر عمل کرتا ہے، وہ اللہ کے ہاں بلند درجات کا حامل ہے۔ آئیے ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی تو اس آیت کے مصداق نہیں بن رہے؟ اللہ ہمیں حق کو قبول کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں
ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔