کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَرَأَيْتَكُمْ: بتاؤں، مجھے بتاؤ، اپنا حال بیان کرو۔
السَّاعَةُ: قیامت، وہ گھڑی جس میں سب مردے زندہ ہو کر حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔
تَدْعُونَ: پکارتے ہو، مدد طلب کرتے ہو۔
صَادِقِينَ: سچے، اپنے دعوے میں سچے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرمائیں کہ ذرا مجھے بتاؤ، اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس آجائے، خواہ وہ دنیوی عذاب ہو جو تم پر نازل ہو جائے، یا قیامت کی گھڑی آ جائے جس کا تم وعدہ دیے گئے ہو، تو اس وقت تم کس کو پکارو گے؟ کیا تم اللہ کے سوا ان بتوں کو پکارو گے جنہیں تم اس کی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہو؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس شدید مصیبت کے وقت تمہاری فطرت خود بخود اللہ کی طرف مائل ہو جائے گی، اور تم اپنے ان معبودوں کو بھول جاؤ گے۔ تم صرف اللہ ہی کو پکارو گے، کیونکہ تم جانتے ہو کہ عذاب کو ٹالنے اور مصیبت کو دور کرنے کی قدرت صرف اللہ کے پاس ہے، تمہارے یہ بت کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
یہ ایک ایسا حقیقت پر مبنی سوال ہے جو ان کے دلوں کو جھنجوڑتا ہے اور انہیں دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر سے رجوع کریں۔ اگر وہ سچے ہیں کہ ان کے معبود نفع پہنچا سکتے ہیں یا نقصان دفع کر سکتے ہیں، تو پھر وہ اس وقت اپنے ان معبودوں کو کیوں نہیں پکاریں گے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بت بے بس ہیں، اس لیے وہ اس وقت اللہ ہی کو پکاریں گے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی فطرت اللہ کی طرف رجوع کرنے والی ہے، چاہے وہ کتنا ہی شرک میں مبتلا کیوں نہ ہو۔ مصیبت کے وقت ہر شخص اپنے رب کو یاد کرتا ہے، کیونکہ دل کی گہرائیوں میں یہ یقین موجود ہے کہ اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس فطرت کو زندہ رکھیں اور صرف اللہ ہی سے مدد مانگیں، کسی اور سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہے، وہ دعا سنتا ہے اور مصیبت میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے ساتھ جوڑیں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی حقیقی مددگار اور کارساز ہے۔
اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے
بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔