ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
معانی الفاظ:
- بَعَثْنَا: ہم نے بھیجا، مبعوث کیا۔
- بِآيَاتِنَا: ہماری نشانیوں اور معجزات کے ساتھ۔
- مَلَئِهِ: اس کی قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں کی طرف۔
- فَظَلَمُوا بِهَا: انہوں نے ان نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، یعنی ان کا انکار کیا اور کفر کیا۔ ظلم کا اصل معنیٰ کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹانا ہے، یہاں انہوں نے ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر ظلم کیا۔
- عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ: فساد کرنے والوں کا انجام۔
تفسیر:
پھر ہم نے ان سے پہلے بھیجے گئے رسولوں اور ان کی قوموں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی واضح نشانیوں اور معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ یہ نشانیاں اس قدر روشن اور صاف تھیں کہ کوئی صاحبِ عقل ان سے انکار نہ کر سکتا تھا، جیسے عصا کا اژدہا بننا، ید بیضا، طوفان، ٹڈیاں، قمل، مینڈک اور خون وغیرہ۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم نے ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی ان کا انکار کیا اور کفر کیا، اور یہ انکار محض ظلم اور سرکشی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی شبہ یا دلیل کی بنا پر۔ انہوں نے حق کو پہچان لیا تھا لیکن پھر بھی اسے قبول نہ کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی! ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیا ہوا؟ اللہ نے انہیں دریا میں غرق کر کے تباہ کر دیا، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچا، اور انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کا مستحق بنایا۔ یہی ہے ان لوگوں کا انجام جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، حق کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کی نشانیوں سے منہ موڑتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون جیسے طاقتور اور ظالم بادشاہ کو اس کے سارے لشکر اور سازوسامان کے باوجود اس طرح غرق کیا کہ آج اس کی کوئی نشانی باقی نہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کی طاقت کے آگے کوئی طاقت نہیں چلتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں۔ جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور زمین پر فساد پھیلاتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ہمیں توبہ کی توفیق دے اور ہمیں فرعون جیسے انجام سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 101-105 — اعراف
ترجمہ — اعراف 103
سورہ اعراف آیت 103 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں…سورہ آیت 103/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 101–105. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








