ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رسول: بھیجا ہوا، پیغام لانے والا۔
- رب العالمین: تمام جہانوں کا پروردگار، خالق اور مالک۔
تفسیر آیت:
یہ وہ لمحہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس بھیجا۔ وہ اس ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر نہایت ادب اور وضاحت کے ساتھ اپنا تعارف کرا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اے فرعون! میں اس ذات کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"
یہ ایک عظیم دعوتی انداز ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ ان کا تعلق کسی دنیاوی طاقت یا بادشاہ سے نہیں، بلکہ اس رب سے ہے جو سارے جہانوں کا خالق، مالک اور مدبر ہے۔ انہوں نے فرعون کو مخاطب کیا، لیکن اس کے مرتبے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اسے سمجھانے اور حق کی طرف بلانے کے لیے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کا اعلان کرتے وقت ہمیں نہایت وضاحت اور اعتماد کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنا چاہیے، چاہے سامنے کتنا ہی بڑا طاقتور کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف منسوب ہو کر بات کی، کیونکہ اصل عزت اور طاقت اسی رب کے پاس ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب ہم اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں تو ہمیں کسی سے خوف نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ ہمارا سہارا رب العالمین ہے۔ اور یہ بھی کہ دعوت دینے کا انداز نرم اور حکمت والا ہونا چاہیے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے ظالم سے بھی ادب کے ساتھ بات کی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 102-106 — اعراف
ترجمہ — اعراف 104
سورہ آیت 104/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 102–106. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








