اعراف · 134/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۝١٣٤
Wa lammaa waqa`a `alaihimur rijzu qaaloo ya Moosad-u lanaa rabbaka bimaa `ahida `indaka la`in kashafta `annar rijza lanu `minanna laka wa lanursilanna ma`aka Banee Israaa`eel
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الرِّجز: عذاب، وبعض مفسرین نے اسے طاعون کی وبا سے تعبیر کیا ہے۔
  • بِمَا عَهِدَ عِندَكَ: اس عہد کی بنا پر جو تجھ سے کیا گیا ہے، یعنی نبوت اور وہ وعدہ جو اللہ نے تجھ سے رفع عذاب کے سلسلے میں کیا ہے۔
  • لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ: ہم ضرور تجھ پر ایمان لائیں گے۔
  • وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ: ہم ضرور تیرے ساتھ بھیج دیں گے، یعنی بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں گے۔

تفسیر:

جب فرعون اور اس کی قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا—چاہے وہ قحط، طاعون، یا دوسری آفات کی صورت میں تھا—تو وہ شدید پریشانی اور خوف میں مبتلا ہو گئے۔ اس مصیبت کے وقت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا اور عاجزی کے ساتھ التجا کی: "اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو، اس عہد کی وجہ سے جو اس نے تجھ سے کیا ہے—یعنی نبوت اور رحمت کا وہ وعدہ جو تجھ سے ہے—کہ وہ ہم سے یہ عذاب ہٹا دے۔" انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر تم نے دعا کی اور عذاب ہٹ گیا، تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے، تمہاری دعوت کو قبول کریں گے، اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ جانے کی اجازت دیں گے، انہیں آزاد چھوڑ دیں گے۔

یہ وہ وقت تھا جب مصیبت نے انہیں مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنے گھمنڈ اور انکار کو چھوڑ کر اللہ کے نبی کے سامنے جھک جائیں۔ لیکن افسوس! یہ ان کا ایمان نہیں تھا، بلکہ محض مصلحت پر مبنی عارضی التجا تھی، کیونکہ جب عذاب ہٹ جاتا تھا تو وہ پھر اپنی سرکشی پر لوٹ آتے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ مصیبت اور پریشانی کے وقت انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ مخلوق کی طرف۔ فرعون جیسے ظالم بھی جب عذاب دیکھتے ہیں تو اللہ کے نبی کے پاس آتے ہیں، کیونکہ دل فطرتاً اپنے خالق کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دوسرا، یہ کہ اللہ کے نبیوں کی دعا بہت مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں۔ تیسرا، یہ کہ ایمان صرف زبان سے کہنا نہیں، بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ فرعون کی قوم نے زبان سے وعدے کیے، لیکن جب عذاب ہٹا تو وہ اپنے وعدوں پر قائم نہ رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف دعووں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال سے اسے ثابت کریں۔ اور سب سے اہم، یہ کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں پر عذاب نازل کرنے کے بعد بھی توبہ کی دعوت دیتا ہے، اور جو بھی خلوص دل سے اس کی طرف رجوع کرے، وہ اسے قبول کرتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں اللہ کی طرف رجوع کریں، اس کے دین کو مضبوطی سے تھامیں، اور اپنے قول و فعل میں سچے ہوں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہم پر نازل ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 132-136 — اعراف

132وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
133فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ
تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار
134وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
135فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
136فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
134آیت

ترجمہ — اعراف 134

سورہ اعراف آیت 134 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ…

سورہ آیت 134/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 132–136. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں