مُتَبَّرٌ: ہلاک شدنی، تباہ ہونے والا، برباد ہونے والا۔
ما هُمْ فِيهِ: وہ چیز جس پر وہ قائم ہیں، یعنی شرک اور بت پرستی۔
بَاطِلٌ: ناچیز، غلط، جھوٹا، بے حقیقت۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک قوم کو بتوں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ جس راستے پر ہیں، وہ راستہ بالکل غلط اور تباہ کن ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کر رہے ہیں، ان کا انجام ہلاکت ہے۔ ان کا شرک، ان کی بت پرستی، اور ان کے سارے اعمال جو وہ ان بتوں کے لیے کرتے ہیں، سب کچھ باطل اور ناچیز ہے۔ یہ چیزیں نہ صرف انہیں اللہ کے قریب کرنے والی ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے وہ اللہ کے عذاب کے مستحق بن رہے ہیں۔
اس آیت میں ایک بڑا سبق ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے، اگر وہ اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہوتا، تو وہ باطل ہے۔ شرک اور بت پرستی کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ یہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت ہے، اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ اسے کبھی معاف نہیں فرماتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے کریں، تاکہ ہمارے اعمال ضائع نہ ہوں۔ یاد رکھیں، جو کام اللہ کے لیے ہوتا ہے، وہی باقی رہتا ہے، اور جو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہوتا ہے، وہ باطل اور تباہ ہو جاتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو شرک اور بت پرستی کی تمام اقسام سے پاک کریں، چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی، اور صرف اللہ کی رضا کے طالب بنیں۔
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔