Falammaa nasoo maa zukkiroo bihee anjainal lazeena yanhawna `anis sooo`i wa akhaznal lazeena zalamoo bi`azaabim ba`eeim bimaa kaanooyafsuqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون اندرزى را كه به آنها داده شده بود فراموش كردند، آنان را كه از بدى پرهيز مىكردند نجات داديم و گنهكاران را به سبب گناهشان به عذابى سخت فرو گرفتيم.
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَسُوا: یہاں اس کا مطلب ہے ترک کر دیا، نظر انداز کر دیا۔
مَا ذُکِّرُوا بِہِ: جس چیز کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، یعنی مچھلیوں کے شکار سے منع کرنا۔
بَئِیس: سخت، شدید، تکلیف دہ عذاب۔
یَفْسُقُونَ: حکمِ الٰہی سے نکل جانا، نافرمانی کرنا۔
تفسیر:
جب اہلِ قریہ نے اس نصیحت کو یکسر نظر انداز کر دیا جو انہیں کی گئی تھی، اور وہ لوگ جو برائی سے روکنے والے تھے، ان کی تنبیہ کے باوجود حد سے تجاوز کرنے والے اپنی سرکشی اور نافرمانی پر قائم رہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان نیک لوگوں کو نجات عطا فرمائی جو برائی سے روکتے تھے۔ یہ وہ مخلص لوگ تھے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر رہے تھے، انہیں اس سخت عذاب سے محفوظ رکھا گیا۔
اور جن لوگوں نے ظلم کیا، یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ہفتے کے دن مچھلیوں کے شکار کی حرمت کو توڑا اور اللہ کی حدود سے تجاوز کیا، انہیں اللہ نے ایک ایسے شدید اور تکلیف دہ عذاب میں گرفتار فرمایا جو ان کی نافرمانی اور فسق کا نتیجہ تھا۔ یہ عذاب ان کے اصرارِ معصیت اور اللہ کے حکم سے خروج کی وجہ سے آیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھتا ہے جو برائی سے روکتے ہیں اور حق پر قائم رہتے ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کو اپنی رحمت سے نوازے گا اور انہیں عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکام کو نظر انداز کرنے کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں برائی سے بچیں اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کریں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، لیکن اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم بھی ان نجات یافتہ لوگوں میں شامل ہو سکیں۔
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔