اعراف · 65/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۝٦٥
Wa ilaa `aadin akhaahum Hoodaa; qaala yaa qawmi` budul laaha maa lakum min ilaahin ghairuh; afalaa tattaqoon
📖 اردو ترجمہ
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عاد: قومِ عاد، حضرت ہود علیہ السلام کی قوم، جو عادِ اولیٰ کہلاتی ہے۔
  • أخاهم: ان کا بھائی، یعنی نسب میں بھائی، دین میں نہیں۔
  • أفلا تتقون: کیا تم ڈرتے نہیں؟ یعنی کیا تم اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے خوف نہیں کھاتے؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قومِ عاد کی طرف انہیں میں سے ایک رسول حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا، جو نسب اور خاندان میں انہی کے بھائی تھے، تاکہ ان کی قوم ان کی بات آسانی سے سمجھ سکے اور ان پر اعتماد کرے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی اور فرمایا: "اے میری قوم! صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ تمہارا کوئی معبودِ برحق نہیں سوائے اللہ کے۔ وہی تمہارا خالق، رازق اور مالک ہے، اسی لیے وہی عبادت کا مستحق ہے۔"

پھر انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا اور کہا: "کیا تم اللہ کے عذاب اور اس کے غضب سے نہیں ڈرتے؟ کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ اگر تم شرک اور نافرمانی پر قائم رہے تو اللہ کا عذاب تم پر نازل ہو جائے گا؟" یہ دعوت نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ تھی، کیونکہ نبی اپنی قوم کی بھلائی چاہتا ہے اور انہیں جہنم کے عذاب سے بچانا چاہتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دعوتِ دین کا آغاز نرمی، محبت اور خیرخواہی سے کرنا چاہیے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو "یا قوم" کہہ کر مخاطب کیا، جو محبت اور شفقت کا انداز ہے۔ ہمیں بھی اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور معاشرے کو اللہ کی طرف بلاتے وقت نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ نیز یہ کہ توحید ہی اصل پیغام ہے، جس کی طرف تمام انبیاء علیہم السلام نے دعوت دی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں شرک سے بچیں اور خالص اللہ کی عبادت کریں، اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہیں تاکہ ہم کامیاب ہوں۔ اللہ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 63-67 — اعراف

63أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
64فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
65۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
66قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
67قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
65آیت

ترجمہ — اعراف 65

سورہ اعراف آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی…

سورہ آیت 65/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں