Fakazzaboohu fa anjai naahu wallazeena ma`ahoo fil fulki wa aghraqnal lazeena kazzaboo bi Aayaatinaa; innahum kaanoo qawman `ameen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس تكذيبش كردند و ما او و كسانى را كه با او در كشتى بودند رهانيديم و آنان را كه آيات ما را دروغ مىانگاشتند غرقه ساختيم، كه مردمى بىبصيرت بودند.
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
فَكَذَّبُوهُ: انہوں نے (نوح علیہ السلام کو) جھٹلایا۔
فِي الْفُلْكِ: کشتی میں۔
عَمِينَ: اندھے، یعنی دل کے اندھے جو حق دیکھنے سے قاصر تھے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے حالات بیان فرمائے ہیں۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت اور توحید کی دعوت دی، تو ان کی قوم نے نہ صرف ان کی بات کو جھٹلایا بلکہ انہیں ایذا دینے میں بھی کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور انہیں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات عطا فرمائی۔ جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں اور حجتوں کو جھٹلایا، انہیں طوفان میں غرق کر کے ہلاک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ درحقیقت دل کے اندھے تھے، وہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی حق کو نہیں دیکھ پا رہے تھے، کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی ہمیشہ مدد فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے تقریباً 950 سال تک اپنی قوم کو دعوت دی، مگر ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔ لیکن جب اللہ کا فیصلہ آیا، تو اس نے اپنے نبی اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کو ہلاک کر دیا۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے لوگ ہمیں جھٹلائیں یا ہمارا مذاق اڑائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے۔ ساتھ ہی یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، انہیں اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دل کی آنکھیں کھولیں، حق کو دیکھیں اور اللہ کے احکامات پر عمل کریں تاکہ ہم بھی نجات پانے والوں میں شامل ہوں۔
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔