ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَفَاهَةٍ: جہالت، حماقت اور عقل کی کمی۔
- لَنَرَاكَ: ہم تمہیں یقیناً دیکھتے ہیں (یعنی ہمیں تمہارے بارے میں یقین ہے)۔
- لَنَظُنُّكَ: ہم تمہیں یقیناً خیال کرتے ہیں۔
تفسیر:
جب حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں بتوں کی عبادت سے منع کیا تو قوم کے بڑے سرداروں اور معزز لوگوں نے، جنہوں نے کفر اور انکار پر اصرار کیا تھا، ایک دوسرے سے کہا: "اے ہود! ہم تمہیں یقیناً جہالت اور حماقت میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔ تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا اور ہمیں ان بتوں کی عبادت چھوڑنے پر اکساتے ہو جنہیں ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ یہ تمہاری عقل کی کمی اور سمجھ کی پستی کی دلیل ہے۔" پھر انہوں نے مزید کہا: "اور ہم تمہارے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو، اپنے اس دعوے میں کہ تم اللہ کی طرف سے رسول ہو۔"
یہ وہی انداز ہے جو ہر دور کے ظالم اور متکبر لوگ انبیاء کرام کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ جب انہیں حق کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ دلیل اور برہان کے بجائے طعن و تشنیع، الزام تراشی اور تحقیر کا راستہ اپناتے ہیں۔ وہ سچے ناصح کو دیوانہ، جھوٹا یا عقل سے محروم قرار دے کر اس کی بات کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو راستے میں بہت سی رکاوٹوں اور تلخ جوابات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اللہ کے نیک بندے ان باتوں سے دل شکستہ نہیں ہوتے، بلکہ صبر اور حکمت کے ساتھ اپنی دعوت جاری رکھتے ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام نے ان الزامات کا جواب نرمی اور حکمت سے دیا، جیسا کہ اگلی آیت میں آتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب ہمیں حق کی دعوت پر طعنے ملیں تو ہم اپنے موقف پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے صابر بندوں کے ساتھ ہوتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ آزمائشیں دراصل ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
📜 آیت 64-68 — اعراف
ترجمہ — اعراف 66
سورہ آیت 66/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








