ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُیِّرَتِ: چلائی گئیں، حرکت میں لائی گئیں۔
- سَرَابًا: چمکتا ہوا ریگستان کا وہ حصہ جو دور سے پانی نظر آئے، لیکن حقیقت میں کچھ نہ ہو۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں قیامت کے ایک ہولناک منظر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس دن پہاڑ، جو اپنی مضبوطی اور عظمت میں مشہور ہیں، اپنی جگہوں سے اکھاڑ کر چلائے جائیں گے۔ وہ اتنے باریک ذرات میں تبدیل ہو جائیں گے کہ دیکھنے والے کو محض دھند اور سراب کا گمان ہوگا۔ جس طرح دنیا میں سراب دور سے پانی لگتا ہے مگر قریب جانے پر کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح قیامت کے دن یہ عظیم پہاڑ بھی بالکل بے حقیقت اور فنا ہو جائیں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اور جو کچھ آج ہمیں بڑا اور مضبوط نظر آتا ہے، وہ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت پر غور کرنے سے انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدرت کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بڑے بڑے پہاڑ، جنہیں ہم ہمیشہ کے لیے قائم سمجھتے ہیں، ایک دن سراب کی مانند غائب ہو جائیں گے، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہی اصل قرار گاہ ہے۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کریں، نیک اعمال کریں اور اللہ کی اطاعت میں رہیں، تاکہ اس دن ہم خوف و حسرت سے محفوظ رہیں اور اللہ کی رحمت کے سایے میں جگہ پا سکیں۔ یاد رکھیں، جس دن پہاڑ سراب ہو جائیں گے، صرف ایمان اور عملِ صالح ہی کام آئے گا۔
📜 آیت 18-22 — نبأ
ترجمہ — نبأ 20
سورہ نبأ آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر…سورہ آیت 20/40 — نبأ النبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نبأ سنیں, نبأ ترجمہ, نبأ mp3, نبأ pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








