ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَدْبَرَ: پیٹھ پھیر کر چلا گیا، منہ موڑ لیا۔
- يَسْعَىٰ: دوڑتا ہوا، کوشش کرتا ہوا، یا زمین میں فساد پھیلانے کے لیے سرگرم ہو گیا۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے وہ عظیم نشانی پیش کی — عصا کا سانپ بننا اور ید بیضا کا معجزہ — تو فرعون نے اسے جھٹلایا اور اپنے رب کی نافرمانی پر اڑا رہا۔ پھر اس نے ایمان لانے سے منہ موڑ لیا اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ لیکن وہ صرف چلا ہی نہیں گیا، بلکہ دوڑتا ہوا اس نے اپنی مخالفت اور سرکشی میں مزید کوششیں شروع کر دیں۔ وہ حق کے مقابلے میں اپنے باطل کو مضبوط کرنے کے لیے دوڑتا پھرتا تھا، جادوگر جمع کرتا تھا، اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی تدبیریں کرتا تھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب اس نے سانپ کو دیکھا تو خوف کے مارے پیٹھ پھیر کر بھاگا، لیکن پھر واپس آ کر اپنی سرکشی اور فساد میں مصروف ہو گیا۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ فرعون جیسے ظالم لوگ حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، بلکہ اپنے غرور اور تکبر کی وجہ سے منہ موڑ لیتے ہیں اور پھر اپنے باطل کو پھیلانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ حق ہمیشہ غالب رہے گا اور باطل کا انجام ذلت و رسوائی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ حق کو دیکھتے ہی فوراً قبول کر لے، چاہے وہ اس کے نفس کو کتنا ہی بھاری کیوں نہ لگے۔ فرعون نے حق کو جھٹلایا اور منہ موڑا، انجام کار وہ غرق ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم حق کو قبول کرنے میں جلدی کریں اور اپنے رب کی اطاعت میں دوڑیں، نہ کہ فساد اور سرکشی میں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ کی طرف دوڑتا ہے، اللہ اسے اپنی رحمت اور محبت سے نوازتا ہے۔
📜 آیت 20-24 — نازعات
ترجمہ — نازعات 22
سورہ آیت 22/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








