ترجمہ — Tafsir
ذُو قُوَّةٍ: بڑی طاقت والا، عِندَ ذِي الْعَرْشِ: عرش کے مالک (اللہ) کے پاس، مَكِينٍ: بلند مرتبہ اور عزت والا۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ فرشتے جبرائیلِ امین علیہ السلام کی شان بیان فرمائی ہے۔ یہ وہ عظیم فرشتہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنِ مجید لے کر اترے۔ اللہ تعالیٰ انہیں "ذُو قُوَّةٍ" یعنی زبردست طاقت والا فرماتا ہے، کیونکہ یہ وحیِ الٰہی کی حفاظت اور اسے پہنچانے میں کامل قوت رکھتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ مقامِ قربت رکھنے والے ہیں "عِندَ ذِي الْعَرْشِ" یعنی عرشِ عظیم کے مالک اللہ کے حضور ان کا بلند مرتبہ ہے، اور وہاں وہ "مَكِينٍ" یعنی عزت و وقار والے اور معتبر ہیں۔ یہ مقام انہیں اللہ کی خاص عنایت سے ملا ہے، اور اسی وجہ سے وہ وحی کے امین ہیں۔
پیارے مسلمانو! جب اللہ ربُّ العزت خود اپنے فرشتے کی اس طرح تعریف کرتا ہے، تو ہمیں بھی اس کی عظمت کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے اور قرآنِ مجید کو اسی محبت اور ادب سے پڑھنا چاہیے جس کے ساتھ یہ ہم تک پہنچایا گیا۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے نیک بندے، چاہے وہ فرشتے ہوں یا انسان، اللہ کے ہاں بلند مقام رکھتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے اعمال کو خوب بنانا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے نزدیک محبوب اور معتبر بن سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی قربت ہی اصل کامیابی ہے، اور یہ قربت تقویٰ اور نیک اعمال سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے دین پر چلنے اور اپنے محبوب فرشتوں کی طرح اطاعتِ الٰہی میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 18-22 — تکویر
ترجمہ — تکویر 20
سورہ تکویر آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا…سورہ آیت 20/29 — تکویر التكوير (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: تکویر سنیں, تکویر ترجمہ, تکویر mp3, تکویر pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








