ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُعْتَدٍ: حد سے تجاوز کرنے والا، ظالم، جو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے بڑھ جائے۔
- أَثِيمٍ: بہت زیادہ گناہ کرنے والا، خطاکار، جس کا گناہ عادت بن چکا ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ روزِ جزا (قیامت) کو صرف وہی لوگ جھٹلاتے ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے اور بہت زیادہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ظلم و سرکشی کی وجہ سے اللہ کی حدود کو توڑا، حق کو پس پشت ڈالا، اور اپنے گناہوں کو اس قدر بڑھا لیا کہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا۔ جب ان کے سامنے قرآن کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو وہ انہیں "اگلے لوگوں کی کہانیاں" کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ کلام اللہ ہے جو اس کے نبی ﷺ پر نازل ہوا۔ ان کا جھٹلانا کسی دلیل پر مبنی نہیں، بلکہ محض ان کے دلوں کے اندھے ہونے کی وجہ سے ہے، جو کثرتِ گناہ کے باعث پیدا ہوا۔
یہاں ایک اہم حقیقت واضح کی گئی ہے کہ تکذیب (جھٹلانا) کبھی کسی نیک اور صالح انسان سے صادر نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمیشہ ظالم اور گنہگار لوگوں کا وصف ہے۔ جو شخص اللہ کی حدود کا احترام کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے، اس کا دل حق کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن جو شخص ظلم اور گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور وہ حق کو دیکھ کر بھی انکار کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان اور حق کی تصدیق کا تعلق دل کی پاکیزگی سے ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو گناہوں سے پاک رکھیں گے، تو اللہ کی نشانیاں ہمارے لیے روشنی بن جائیں گی۔ لیکن اگر ہم ظلم اور گناہ میں مبتلا ہو جائیں گے، تو ہمارے دل اندھے ہو جائیں گے اور ہم حق کو بھی جھٹلانے لگیں گے۔ اس لیے اے مسلمان! اپنے دل کو گناہوں سے بچاؤ، کیونکہ گناہ ہی وہ پردہ ہے جو انسان کو حق دیکھنے سے روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم اور گناہ سے بچائے اور ہمارے دلوں کو حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 10-14 — مطففین
ترجمہ — مطففین 12
سورہ مطففین آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل…سورہ آیت 12/36 — مطففین المطففين (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مطففین سنیں, مطففین ترجمہ, مطففین mp3, مطففین pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








