مطففین · 29/36
ترجمہ تلفظ — مطففین
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ۝٢٩
Innal lazeena ajramoo kaanoo minal lazeena aamanoo yadhakoon
📖 اردو ترجمہ
جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَجْرَمُوا: جنہوں نے جرائم اور گناہ کمائے، یعنی کفر و شرک اور نافرمانیوں کا ارتکاب کیا۔
  • يَضْحَكُونَ: وہ مذاق اڑاتے تھے، ہنسی اڑاتے تھے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ مجرموں اور کافروں کے اس رویے کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہوں نے دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ جو لوگ جرائم کے مرتکب تھے، یعنی کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، وہ دنیا میں ایمان لانے والوں پر ہنستے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ انہیں حقیر سمجھتے تھے، ان کی سادگی اور دین پر استقامت کو بے وقوفی قرار دیتے تھے، اور جب بھی موقع ملتا، انہیں اپنے طنز و استہزاء کا نشانہ بناتے۔

یہ استہزاء محض زبان سے نہیں تھا، بلکہ وہ آنکھوں کے اشاروں سے، چہرے کے تاثرات سے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے سے بھی اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تو اپنے اہل و عیال سے کہتے کہ آج ہم نے ان مسلمانوں کا کیا خوب مذاق اڑایا، اور ان کی حالت پر ہنستے تھے۔ حتیٰ کہ جب وہ اہل ایمان کو دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے، تو کہتے کہ یہ لوگ تو گمراہ ہو گئے ہیں، انہوں نے اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ کر ایک نیا راستہ اختیار کر لیا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ مجرم اہل ایمان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے کہ وہ ان کے اعمال کا محاسبہ کریں یا انہیں راستہ دکھائیں۔ ان کا کام صرف یہ تھا کہ وہ ایمان والوں کا مذاق اڑائیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہاں حالات بدل جائیں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا میں جو لوگ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ صرف اپنی جہالت اور تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک اصل عزت تقویٰ اور ایمان میں ہے، نہ کہ مال و دولت یا دنیاوی مرتبے میں۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ ان طعنوں اور مذاق پر صبر کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں ایسا بدلہ تیار کیا ہے جو ان کے دشمنوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ قیامت کے دن صورتیں بدل جائیں گی، اور جو آج ہنستے ہیں، وہی کل رونے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ دنیا کی ظاہری چمک دمک پر مغرور نہ ہوں، بلکہ ایمان اور عمل صالح کو اپنی زندگی کا حقیقی مقصد بنائیں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ کے ہاں نجات کا ذریعہ بنے گی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 27-31 — مطففین

27وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ
اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی
28عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ
وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پیئیں گے
29إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ
جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے
30وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ
اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے
31وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ
اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے
مطففینقرآن فہرست
36آیت
مکیRevelation
29آیت

ترجمہ — مطففین 29

سورہ مطففین آیت 29 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے…

سورہ آیت 29/36 — مطففین المطففين (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مطففین سنیں, مطففین ترجمہ, مطففین mp3, مطففین pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں