ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السَّمَاءِ: آسمان
- ذَاتِ الرَّجْعِ: بارش والی، لوٹنے والی
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی قسم کھائی ہے جو "ذاتِ رجع" ہے، یعنی بارش والا آسمان۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا بیان ہے کہ وہ آسمان جس سے بارش کا پانی بار بار لوٹتا ہے اور مسلسل نازل ہوتا ہے۔ اسے "رجع" اس لیے کہا گیا ہے کہ بارش آسمان سے آتی ہے، زمین کو سیراب کرتی ہے، پھر بخارات بن کر آسمان کی طرف لوٹ جاتی ہے، اور پھر سے بارش بن کر واپس آتی ہے۔ یہ چکر مسلسل جاری رہتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا بین ثبوت ہے۔
یہ قسم اس لیے کھائی گئی تاکہ اس کے بعد آنے والے بیان کی اہمیت کو واضح کیا جائے کہ قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن کلام ہے۔ جس طرح بارش زمین کو زندہ کرتی ہے اور اس سے نباتات اگتے ہیں، اسی طرح قرآنِ کریم دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحوں کو حیات بخشتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی قسم کھائی ہے تاکہ ہم اس کی عظمت و قدرت پر غور کریں۔ لیکن ہم انسانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائیں، کیونکہ قسم صرف اللہ کے نام کی ہی کھائی جا سکتی ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ جس طرح بارش بار بار آتی ہے اور زمین کی پیاس بجھاتی ہے، اسی طرح اللہ کی رحمت اور مغفرت بھی بار بار نازل ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ بار بار اپنے بندوں کو توبہ کی دعوت دیتا ہے۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کی کائنات پر نظر ڈالیں، بارش کے اس نظام پر غور کریں جو مسلسل جاری ہے، اور اس میں اللہ کی قدرت کے جلوے دیکھیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اپنے رب کو پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔
📜 آیت 9-13 — طارق
ترجمہ — طارق 11
سورہ طارق آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہےسورہ آیت 11/17 — طارق الطارق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طارق سنیں, طارق ترجمہ, طارق mp3, طارق pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








