ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عامِلَةٌ: کام کرنے والی، محنت کرنے والی۔
- ناصِبَةٌ: تھکی ہوئی، مشقت میں مبتلا، تکلیف اٹھانے والی۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے اُن چہروں کا ذکر فرما رہے ہیں جو اہلِ جہنم ہوں گے۔ یہ چہرے ذلیل و خوار ہوں گے، اور ان پر مشقت اور تھکن کے آثار نمایاں ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا میں اللہ کی عبادت اور اطاعت سے سرکشی کرتے تھے، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے انکار کرتے تھے۔ لیکن قیامت کے دن ان کی یہی حالت ہوگی کہ وہ جہنم میں مشقت اور تکلیف کے کاموں میں مبتلا ہوں گے، انہیں زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر گھسیٹا جائے گا، اور وہ انتہائی تھکن اور ذلت کا شکار ہوں گے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں اللہ کے لیے عمل کرنے سے تکبر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آخرت میں اپنی آگ میں مشقت والے کاموں میں مبتلا کر دیا۔ وہ جہنم کی شدید گرمی، آگ کے شعلوں اور عذاب کے مختلف انداز میں مبتلا ہوں گے، اور انہیں کوئی آرام یا سکون نصیب نہ ہوگا۔ ان کی غذا بھی انتہائی خراب ہوگی، جو نہ انہیں سیر کرے گی اور نہ ہی ان کی بھوک مٹائے گی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مشقت اٹھانا دنیا کی کسی بھی مشقت سے بہتر ہے۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کے لیے محنت کرتے ہیں، ان کی محنت اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی، بلکہ انہیں آخرت میں اس کا اجر ملے گا۔ لیکن جو لوگ اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں، ان کا انجام انتہائی برا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کے لیے عمل کریں، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ قیامت کے دن ہمارے چہرے روشن اور خوشحال ہوں، نہ کہ ذلیل اور تھکے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — غاشیہ
ترجمہ — غاشیہ 3
سورہ آیت 3/26 — غاشیہ الغاشية (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غاشیہ سنیں, غاشیہ ترجمہ, غاشیہ mp3, غاشیہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








