Falaa tu`jibka amwaaluhum wa laaa awlaaduhum; innamaa yureedul laahu liyu`az zibahum bihaa fil hayaatid dunyaa wa tazhaqa anfusuhum wa hum kaafiroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
دارايى و فرزندانشان تو را به اعجاب نيفكند. جز اين نيست كه خدا مىخواهد به آنها در اين دنيا عذابشان كند و در حالى كه هنوز كافرند جانشان برآيد.
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا تُعْجِبْكَ: تجھے مت بھلا لگے، تیرے دل میں ان کی تعریف پیدا نہ ہو۔
تَزْهَقَ: نکل جائے، جان قبض ہو جائے۔
تفسیر:
اے نبی! ان منافقوں کے مال اور اولاد کو دیکھ کر حیران مت ہو اور نہ ہی ان کی طرف دل مائل کرو۔ یہ مال اور اولاد ان کے لیے باعثِ رحمت نہیں، بلکہ باعثِ عذاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے انہیں انہی چیزوں کے ذریعے دنیا میں عذاب دیتا ہے۔ وہ ان اموال کو جمع کرنے میں سخت مشقتیں اٹھاتے ہیں، دن رات کی تھکن اور پریشانیاں برداشت کرتے ہیں، اور جب یہ مال ان کے پاس آتا ہے تو اس کی حفاظت، اس کے نقصانات، اور اس میں آنے والی آفات ان کے لیے باعثِ رنج و الم بنتی ہیں۔ ان کی اولاد بھی ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنتی ہے، کیونکہ وہ اپنی اولاد کی فکر اور ان کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ ان چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں اللہ کا حق ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ چیزیں ان کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ اور آخر کار ان کی جانیں اس حالت میں نکلتی ہیں کہ وہ کفر پر قائم ہوتے ہیں، یعنی وہ ایمان کی دولت سے محروم رہ کر مرتے ہیں، جس کے بعد ان کا انجام جہنم کا دائمی عذاب ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مال اور اولاد کا ہونا کسی شخص کی فضیلت کی دلیل نہیں، بلکہ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ بہت سے لوگ دنیا کے مال و دولت میں غرق ہیں لیکن ان کی زندگیاں عذاب کا نمونہ ہیں، کیونکہ وہ اللہ سے دور ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال اور اولاد کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں، ان میں اللہ کے حقوق ادا کریں، تاکہ یہ چیزیں ہمارے لیے باعثِ رحمت بنیں، نہ کہ باعثِ عذاب۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کا مال و اولاد عارضی ہے، اصل کامیابی تو آخرت میں ہے جب ہم ایمان کی حالت میں اللہ سے ملیں گے۔ اللہ ہمیں اپنے مال اور اولاد کو اپنے لیے ذریعہ نجات بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔