جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُسَوَّمَةً: نشان زدہ، علامت والی۔
عِندَ رَبِّكَ: تیرے رب کے پاس (اس کے خاص علم اور اختیار میں)۔
مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ: ظالموں سے دور نہیں۔
تفسیر:
یہ حجریں جو قومِ لوط پر برسائی گئی تھیں، وہ عام پتھر نہیں تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے نشان زدہ تھیں، ہر ایک پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس پر وہ گرنی تھی۔ یہ حجریں اللہ کے خاص خزانے میں محفوظ تھیں، اور اللہ کے حکم سے ہی نازل ہوئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا عذاب اپنے مقررہ وقت اور انداز سے نہیں ٹلتا، اور نہ کوئی اسے روک سکتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ حجریں اور یہ عذاب ظالموں سے دور نہیں، یعنی مشرکینِ مکہ اور ہر ظالم قوم کے لیے یہ قریب ہے۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور ظلم پر قائم رہے تو ان پر بھی ایسا ہی عذاب آ سکتا ہے۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے ظلم میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، لیکن وہ جلدی نہیں کرتا۔ جو لوگ ظلم اور گناہ پر اصرار کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے کہ اللہ کا عذاب کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی اطاعت کرے، ظلم سے بچے، اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت قریب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم توبہ کریں اور اپنے گناہوں سے باز آئیں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور انہیں معاف کر دیتا ہے۔
فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔