ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَأْمَنَّا: ہمیں امانت دار نہیں سمجھتے، ہم پر بھروسہ نہیں کرتے۔
- لَنَاصِحُونَ: ہم اس کے خیرخواہ ہیں، اس کی بھلائی چاہنے والے ہیں۔
تفسیر:
جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے یوسف کو اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی اور اسے اپنے بھائیوں کے ساتھ باہر جانے کی اجازت نہ دی، تو یوسف کے بھائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے یوسف کو والد سے دور کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت وہ اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے اور انتہائی نرمی اور محبت بھرے انداز میں کہا: "اے ہمارے والد! آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ ہمیں یوسف کے معاملے میں امانت دار نہیں سمجھتے؟ آپ ہم پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ ہم اس کے بھائی ہیں، ہم اس سے محبت کرتے ہیں، اور ہم اس کی بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ ہم اس کی حفاظت کریں گے، اس کی دیکھ بھال کریں گے، اور اسے کسی قسم کی تکلیف سے بچائیں گے۔ ہم اس کے سچے خیرخواہ ہیں اور اس کی بہتری کے لیے ہی ہم یہ سب کہہ رہے ہیں۔"
یہ الفاظ ظاہری طور پر بہت پیارے اور سچے لگ رہے تھے، لیکن ان کے دلوں میں کچھ اور ہی تھا۔ وہ اپنے والد کو دھوکہ دینے کے لیے ایسی باتیں کر رہے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹے یوسف سے بے پناہ محبت تھی، اور انہیں اپنے دوسرے بیٹوں پر مکمل بھروسہ نہیں تھا، اس لیے وہ یوسف کو ان کے ساتھ بھیجنے سے گریزاں تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
- والدین کی محبت اور شفقت: حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹے یوسف کے لیے شدید محبت اور فکر، والدین کے دل کی گہرائیوں کا عکاس ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کی اولاد کے ساتھ محبت اور حفاظت کا جذبہ اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے۔
- زبان کی مٹھاس اور دل کی کڑواہٹ: یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کبھی کبھی لوگ اپنے اصل ارادے چھپا کر بہت میٹھی باتیں کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں سچائی اور خلوص کو اپنائیں، اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
- اللہ پر بھروسہ: حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹوں کے ارادوں کا اندازہ تھا، لیکن پھر بھی وہ اللہ پر توکل کرتے تھے۔ ہمیں بھی ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی سب کچھ جاننے والا اور سب پر قادر ہے۔
- خاندانی تعلقات میں احتیاط: اس آیت سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ خاندانی معاملات میں ہمیں حکمت اور بصیرت سے کام لینا چاہیے، اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے۔
یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ سفر، جو ظاہری طور پر ایک خطرناک قدم تھا، دراصل اللہ کے عظیم منصوبے کا حصہ تھا، جس کے نتیجے میں یوسف علیہ السلام کو عظیم مرتبہ ملا اور ان کے والد کا غم ختم ہوا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور صبر کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی ہی فرماتا ہے۔
📜 آیت 9-13 — یوسف
ترجمہ — یوسف 11
سورہ یوسف آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ…سورہ آیت 11/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








