Qaaloo yaaa abaanaaa innaa zahabnaa nastabiqu wa taraknaa Yoosufa `inda mataa`inaa fa akhalahuz zi`b, wa maaa anta bimu`minil lanaa wa law kunnaa saadiqeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اى پدر، ما به اسبتاختن رفته بوديم و يوسف را نزد كالاى خود گذاشته بوديم، گرگ او را خورد. و هر چند هم كه راست بگوييم تو سخن ما را باور ندارى.
نَسْتَبِقُ: دوڑ میں حصہ لینا، نیز تیر اندازی کا مقابلہ کرنا۔
مَتَاعِنَا: ہمارا سامان، جس میں کپڑے، خوراک اور دیگر ضروریات شامل تھیں۔
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ: بھیڑیے نے اسے کھا لیا (یہ جھوٹا دعویٰ تھا)۔
بِمُؤْمِنٍ لَّنَا: ہماری بات پر یقین کرنے والا۔
تفسیر:
یہ وہ لمحہ ہے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنے والد سے جھوٹی خبر سنائی۔ انہوں نے کہا: "اے ہمارے والد! ہم آج دوڑ اور تیر اندازی کے مقابلے میں مصروف تھے، اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اسے تنہا نہیں چھوڑا تھا، بلکہ وہ ہمارے قریب ہی تھا، لیکن اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اسے کھا گیا۔" انہوں نے اپنے والد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ قصوروار نہیں ہیں، اور یہ کہ انہوں نے یوسف کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔
پھر انہوں نے کہا: "اور آپ تو ہماری بات پر یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ آپ کو یوسف سے بے حد محبت ہے اور آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔" یہ جملہ دراصل ان کے جرم کو چھپانے کے لیے تھا، اور وہ جانتے تھے کہ ان کے والد کو ان کی بات پر شک ہوگا، اس لیے انہوں نے پہلے سے ہی یہ عذر پیش کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ جھوٹ اور فریب کا راستہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، چاہے کتنی ہی چالاکی سے پیش کیا جائے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فوراً ہی ان کی بات کو مشکوک قرار دیا، کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا نور تھا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی محبت کا احترام کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں دھوکہ دینا۔ تیسرا، یہ کہ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی اصل راستہ ہے، جیسا کہ حضرت یعقوب نے بعد میں صبر جمیل اختیار کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں سچائی اور دیانت کو اپنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جھوٹ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
16وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔