(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چنين شد تا بداند كه من در غيبتش به او خيانت نكردهام و خدا حيله خائنان را به هدف نمىرساند.
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
ذٰلِكَ: اس سے اشارہ ہے اس اقرار اور سچی بات کی طرف جو عزیزِ مصر کی بیوی نے کی۔
لِیَعْلَمَ: تاکہ وہ جان لے۔
بِالْغَیْبِ: اس کی غیر موجودگی میں، اس کی پیٹھ پیچھے۔
کَیْدَ: چال، سازش، مکر۔
تفسیر:
یہ وہ موقع ہے جب عزیزِ مصر کی بیوی نے اپنے جھوٹے الزام سے توبہ کی اور سچائی کا اعتراف کیا۔ اس نے کہا: یہ سب کچھ میں نے اس لیے کہا تاکہ عزیزِ مصر (میرا شوہر) جان لے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی، اور نہ ہی میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے خود یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا، لیکن وہ پاک دامن نکلے۔ میں نے یہ اعتراف اس لیے کیا تاکہ میری برأت اور یوسف کی پاکدامنی دونوں ظاہر ہو جائیں۔
اور میں یہ بھی جان گئی ہوں کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی چالوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا، نہ ان کے مکر کو راہ دیتا ہے اور نہ ہی انہیں توفیق بخشتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، اللہ ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیتا ہے اور ان کی سازشیں انہی پر الٹ دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ سچائی اور دیانت داری ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ چاہے کتنی ہی دیر تک جھوٹ اور خیانت کا پردہ رہے، آخرکار اللہ تعالیٰ سچ کو منظر عام پر لاتا ہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر معاملے میں سچ بولنے والے اور امانت دار بنیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کی مدد کرتا ہے اور خائنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر کبھی ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہمیں بلا جھجک اس کا اعتراف کرنا چاہیے، کیونکہ اعترافِ جرم توبہ کی پہلی سیڑھی ہے اور اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔