ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عِبَادِي: میرے خالص بندے، جنہوں نے اپنی عبادت اور اطاعت کو صرف میرے لیے خالص کر لیا۔
- سُلْطَانٌ: کوئی طاقت، قابو، یا تسلط۔ یعنی شیطان کے پاس ان پر کوئی طاقت اور غلبہ نہیں ہوگا۔
- الْغَاوِينَ: گمراہ لوگ، جو راہِ راست سے بھٹک چکے ہیں اور اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے مخلص اور سچے بندوں کے لیے ایک عظیم بشارت اور تحفظ کا اعلان فرما رہے ہیں۔ جب شیطان نے آدم علیہ السلام کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی اور اللہ سے مہلت مانگی، تو اللہ نے فرمایا کہ میری عبادت کو خالص کرنے والے بندے تیرے بس میں نہیں ہیں۔ ان کے دلوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں ہوگا، نہ تو انہیں گمراہ کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں راہِ راست سے ہٹا سکتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان اور یقین کو مضبوط کر لیا ہے، اور وہ صرف اللہ کی رضا کے طلب گار ہیں۔
شیطان کا بس صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو خود اس کی پیروی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، جو گمراہی کو اپناتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے شیطان کی اطاعت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ شیطان کے ساتھی ہیں، اس لیے شیطان ان پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے امید اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ اگر ہم اپنے ایمان کو خالص کریں، اپنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے مخصوص کریں، اور اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے منسلک رکھیں، تو شیطان ہمارے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ یہ وعدہ اللہ کا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، نیک اعمال کریں، اور شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگیں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ سے جڑ جاتا ہے، اسے کوئی طاقت گمراہ نہیں کر سکتی۔
📜 آیت 40-44 — حجر
ترجمہ — حجر 42
سورہ حجر آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت…سورہ آیت 42/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 40–44. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








