ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مجرمین: وہ لوگ جو جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوں، خاص طور پر وہ لوگ جو حد سے تجاوز کرنے والے اور اللہ کی نافرمانی میں ڈوبے ہوئے ہوں۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور انہیں خوشخبری دی، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ تمہارا اور کیا کام ہے؟ اس پر فرشتوں نے جواب دیا: "ہم اس قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں جو مجرم ہے" یعنی قومِ لوط۔ یہ وہ لوگ تھے جو سخت جرائم میں مبتلا تھے، جنہوں نے اللہ کی حدود کو توڑا، شرک اور بے حیائی جیسے گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے، اور حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اس قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے، کیونکہ انہوں نے اپنے جرائم میں حد سے تجاوز کر دیا تھا اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر عذاب کے مستحق بن چکے تھے۔ فرشتوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہلِ ایمان کو بچا لیا جائے گا، سوائے ان کی بیوی کے جو کافر تھی اور عذاب میں شامل ہوگی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کی گرفت بھی بہت سخت ہے۔ جب کوئی قوم اپنے جرائم میں حد سے تجاوز کر جائے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے، تو اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ محفوظ رکھتا ہے، چاہے ان کے گرد کتنا ہی فساد کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی طرح صبر اور ایمان پر قائم رہیں، اور اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
📜 آیت 56-60 — حجر
ترجمہ — حجر 58
سورہ حجر آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف…سورہ آیت 58/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








