پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِلَّةَ: دین، راہ، طریقہ۔
حَنِيفًا: یکسو ہو کر، باطل سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے والا، توحید پر قائم رہنے والا۔
تفسیر:
پھر اے نبیِ مکرم! ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کریں، جو ہر باطل سے ہٹ کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم تھے۔ یہ حکم دراصل امتِ مسلمہ کے لیے بھی ہے کہ وہ ابراہیمی راستے پر چلیں، جو توحید، اخلاص اور اللہ کے سامنے مکمل سرتسلیم خم ہونے کا نام ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مشرکوں میں سے نہ تھے، نہ انہوں نے کبھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، بلکہ وہ توحید کے علمبردار اور تمام جھوٹے معبودوں سے بیزار تھے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دراصل وہی راستہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار کیا تھا — اللہ کی وحدانیت، اس کے سامنے جھکنا، اور شرک سے مکمل براءت۔ آج بھی جب ہم اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالتے ہیں، تو ہم درحقیقت اسی عظیم پیغمبر کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ راستہ ہمیں دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو یہ حکم دے کر ہمارے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کر دی ہے کہ ہم اپنے عقیدے کو پاک رکھیں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور ہر قسم کے شرک سے دور رہ کر خالص اللہ کے بندے بن جائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے خالق کی رضا حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی رحمت کے سایے میں جنت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس سچے دین پر ثابت قدم رکھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہمیں بھی توحید کا پرچم بلند کرنے والا بنائے۔ آمین۔
ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔