اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رِزْقًا: روزی، وہ چیز جو کھائی جائے اور فائدہ پہنچائے۔
مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمان سے (جیسے بارش) اور زمین سے (جیسے نباتات اور فصلیں)۔
لَا يَسْتَطِيعُونَ: وہ قدرت نہیں رکھتے، ان کے بس میں نہیں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان مشرکین کے حال پر روشنی ڈالتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور معبودوں کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ ان چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ تو خود کسی چیز کی مالک ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ وہ معبود نہ تو آسمان سے بارش برسا سکتے ہیں، نہ زمین سے پودے اگا سکتے ہیں، نہ کسی کو ذرہ برابر بھی روزی دے سکتے ہیں۔ یہ بت اور مورتیاں نہ تو خود کچھ رکھتی ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی طاقت ہے کہ اپنے پرستاروں کو کچھ دے سکیں۔ وہ مردہ ہیں، بے جان ہیں، نہ انہیں علم ہے، نہ شعور، نہ سننے کی صلاحیت اور نہ دینے کی قدرت۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ انسان اپنی عقل کو کیسے گنوا بیٹھتا ہے۔ ایک زندہ، عاقل اور طاقتور انسان ایسی بے جان چیزوں کے سامنے جھکتا ہے جو نہ خود کچھ کھا سکتی ہیں، نہ پہن سکتی ہیں، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ انسان اپنے رب کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرے جو اس کی روزی کا ذرہ برابر بھی انتظام نہیں کر سکتیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے، زمین سے اناج اگاتا ہے، پھل اور سبزیاں پیدا کرتا ہے، اور ہر مخلوق کی روزی کا انتظام فرماتا ہے۔ کیا وہ رب جو تمہیں روزی دیتا ہے، تمہیں بیماری سے شفا دیتا ہے، تمہیں اولاد عطا کرتا ہے، وہ عبادت کا مستحق نہیں؟ ہر صبح جب تم اٹھتے ہو اور رزق کی تلاش میں نکلتے ہو، تو یاد رکھو کہ اصل رازق صرف اللہ ہے۔ اس کی طرف رجوع کرو، اسی سے مانگو، اسی سے امیدیں باندھو۔ وہی ہے جو تمہاری حاجتیں پوری کرتا ہے اور وہی ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے۔ اس کے سوا جس کو بھی تم پکارو گے، وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔ تو کیوں نہ اپنی زندگی کو صرف اللہ کے لیے خالص کر لیں اور اس کی عبادت کو اپنا سب سے بڑا مقصد بنائیں؟ یہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے۔
اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں
اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں
خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔